’ایران پر حملوں کی حمایت ناممکن‘: امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ جوزف کینٹ مستعفی

امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جوزف کینٹ نے ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے منگل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

جوزف کینٹ نے اپنے استعفے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ’میں اپنے ضمیر کے مطابق ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا‘۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔

کینٹ، جو ماضی میں گرین بیریٹ اسپیشل فورسز کے رکن رہ چکے ہیں اور متعدد جنگی مشنز میں حصہ لے چکے ہیں، نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ یہ جنگ اسرائیل اور اس کے بااثر امریکی حامیوں کے دباؤ کے باعث شروع کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’ابتدا میں آپ سمجھتے تھے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کو انسانی جانوں اور معاشی وسائل کے نقصان میں مبتلا کرتی ہیں‘، تاہم بعد ازاں ایک منظم غلط معلوماتی مہم کے ذریعے حکومت کو جنگ کی طرف مائل کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کینٹ کے مطابق اعلیٰ اسرائیلی حکام اور امریکی میڈیا کے بعض اثرورسوخ رکھنے والے حلقوں نے ایسی فضا قائم کی جس میں ایران کو فوری خطرہ ظاہر کیا گیا اور جلد کامیابی کا تاثر دیا گیا۔

انہوں نے اپنے خط میں مزید کہا کہ ’یہ ایک جھوٹ تھا اور یہی حکمت عملی ماضی میں عراق جنگ کے لیے بھی استعمال کی گئی تھی جس میں امریکہ کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا‘۔

جوزف کینٹ ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے۔

انہوں نے اپنے استعفے کے اختتام پر کہا کہ وہ ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس میں امریکی نوجوانوں کو ایسی لڑائی میں بھیجا جائے جو نہ تو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور نہ ہی اس کی قیمت انسانی جانوں کے ضیاع سے جائز قرار دی جا سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *