ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے: ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خامنہ ای مر چکے ہیں

  • ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا آج دوسرا دن ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی اعلان کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو مار دیا گیا ہے۔

ایران – امریکہ لڑائی کے پہلے دن کا احوال


 

  • صبح 6 بج کر 30 منٹ: اسرائیل کا نیا حملہ

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کو ایرانی بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے نیا حملہ شروع کیا ہے جبکہ تہران میں ایک اے ایف پی صحافی نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

اے ایف پی کے مطابق ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے ’ایرانی نظام کے بیلسٹک میزائل کے نظام اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک اضافی حملہ شروع کیا ہے‘، تاہم اس نے کسی مقام کی وضاحت نہیں کی۔

اے ایف پی کے صحافی کے مطابق تہران میں تقریباً 00:30 جی ایم ٹی کے قریب کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

اسرائیل کے فوجی سربراہ ایال زامیر نے ہفتے کو کہا کہ ایران کے خلاف یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب اس نے اپنی بیلسٹک میزائل کی پیداوار ’تیز‘ کردی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تحقیق کو جاری رکھا۔

انہوں نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا، ’ہم اب ایرانی دہشت گرد نظام کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم، فیصلہ کن اور بے مثال کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مار دیا گیا ہے۔ ایران نے تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ پیغام انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک خامنہ ای مر چکے ہیں۔ یہ نہ صرف ایرانی عوام کے لیے بلکہ تمام امریکیوں اور پوری دنیا کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور اس کے خونخوار غنڈوں کے ہاتھوں مارے گئے یا معذور ہوئے ہیں۔

„وہ ہماری انٹیلی جنس اور انتہائی جدید ترین نگرانی کے نظام سے بچ نہیں سکے۔ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ ان کے پاسداران انقلاب، اسلامی انقلابی گارڈز، فوج، دیگر سکیورٹی فورسز اور بہت سے لوگ اب لڑنا نہیں چاہتے ہیں، اور ہم سے تحفظ کے لیے کہہ رہے ہیں جیسا کہ میں نے گذشتہ رات کہا تھا: اب ان کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس ملک کو صرف ایک دن میں بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور تقریباً تباہ ہو چکا ہے، بغیر کسی وقفے کے، اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ہمارا مقصد مشرق وسطیٰ اور حقیقتاً پوری دنیا میں حاصل نہیں ہو جاتا۔‘

ادھر سیٹلائٹ تصاویر میں تہران میں ایران کے سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد نقصان ہوا دکھایا گیا ہے۔ حملے کے بعد عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں میں مارے گئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ اور خیریت سے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اسرائیلی میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ کہ ایرانی رہنما کو قتل کر دیا گیا ہے۔

اے بی سی کی سیاسی نامہ نگار ریچل سکاٹ کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ابھی بتایا ہے کہ وہ ’”یقین رکھتے ہیں‘ کہ ایران کے مذہبی رہنما مر چکے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ‘یقینی طور پر’ جانتے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’میں اس وقت تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہنا چاہتا جب تک میں کچھ نہ دیکھوں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ چلا گیا ہے۔

’اور ان کے زیادہ تر لیڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف ایک جگہ پر بلکہ دو اور جگہوں پر جن پر ہم نے حملہ کیا۔ ہمارے پاس اچھی انٹیلی جنس تھی اور اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *