ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، ایران نے جوابی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا

تازہ ترین

  • ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ پانچویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
  • ایرانی حملوں سے اسرائیل میں کم از کم 10 اموات ہوچکی ہیں جبکہ چھ امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

 

جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال —  چوتھے دن کا احوال یہاں کلک کریں


صبح 7 بجے: ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، ایران نے جوابی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا

اسرائیل نے کہا کہ اس نے منگل کے روز ایرانی میزائل لانچروں اور ایک جوہری تحقیقی مرکز پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا اور ایندھن کی فراہمی اور سفر میں خلل ڈالا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارہ دیے جانے کے چار روز بعد کہ یہ جنگ کئی ہفتوں یا اس سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے، ایران میں تقریباً 800 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ انہیں ملک کے ممکنہ مستقبل کے رہنماؤں کے طور پر زیرِ غور لا چکے تھے۔

منگل کو تہران کے علاوہ لبنان میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جہاں اسرائیل نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ اسی طرح سعودی عرب میں امریکی سفارت خانہ اور متحدہ عرب امارات میں امریکی قونصل خانہ بھی ڈرون حملوں کی زد میں آئے۔

ایران اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ چکا ہے، تاہم بیشتر حملے روک لیے گئے۔ اس جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل میں 11 اموات ہو چکی ہیں۔

دیگر پیش رفت میں، پینٹاگون نے کویت میں ایک کمانڈ سینٹر پر اتوار کو ہونے والے ڈرون حملے میں جان سے جانے والے امریکی ریزرو فوج کے چار اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی۔ اس حملے میں دو دیگر فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔

جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ یہ کب اور کیسے ختم ہوگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی انتظامیہ نے مختلف اہداف بیان کیے ہیں، جن میں ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا، اس کی بحریہ کو ختم کرنا، اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اسے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت جاری رکھنے سے باز رکھنا شامل ہے۔

اگرچہ ابتدائی امریکی-اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جان سے چلے گئے تھے اور ٹرمپ نے ایرانیوں پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے پر زور دیا تھا، تاہم بعد ازاں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی مقصد نہیں ہے۔

منگل کو ٹرمپ نے بظاہر اس امکان کو کم اہمیت دی کہ یہ جنگ ایران کی مذہبی حکمرانی کا خاتمہ کر دے گی، اور کہا کہ امریکی-اسرائیلی مہم کے اختتام پر اقتدار سنبھالنے کے لیے ایرانی نظام کے اندر سے کوئی شخص بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کے لیے جن لوگوں کو امریکہ زیرِ غور لا رہا تھا، وہ مر چکے ہیں۔

اوول آفس میں منگل کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی ان افراد میں شامل نہیں، جن پر ان کی انتظامیہ نے سنجیدگی سے غور کیا ہو۔

اندرونِ ایران ممکنہ رہنماؤں کے بارے میں انہوں نے کہا: ’جن لوگوں کو ہم ذہن میں رکھے ہوئے تھے وہ مر چکے ہیں۔‘

ٹرمپ نے کہا: ’بدترین صورتِ حال یہ ہو سکتی ہے کہ ہم یہ سب کریں اور پھر کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لے جو پچھلے شخص جتنا ہی برا ہو، ٹھیک ہے؟ ایسا ہو سکتا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔‘

دوسری جانب ایران کے رہنما خامنہ ای کے متبادل کے لیے سرگرم ہیں، جنہوں نے 37 برس تک ملک پر حکمرانی کی۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ صرف دوسری بار ہے کہ نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ امیدواروں میں ایسے سخت گیر عناصر شامل ہیں جو مغرب کے ساتھ محاذ آرائی کے حامی ہیں اور ایسے اصلاح پسند بھی جو سفارتی روابط کے خواہاں ہیں۔

ایران سے آنے والی معلومات محدود رہی ہیں کیونکہ مواصلاتی نظام متاثر ہے، چوبیس گھنٹے فضائی حملے جاری ہیں اور صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ تاہم ایران کے دارالحکومت میں مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

شمالی تہران میں مقیم ایک انجینیئر علی آملی نے کہا: ’آدھی رات سے میں اور میری اہلیہ دھماکوں کی آوازیں سن رہے ہیں۔‘

کولوراڈو میں قائم کمپنی وینٹر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں دکھایا گیا کہ تہران میں ایران کے صدارتی کمپلیکس کی گنبد نما چھت تباہ ہو چکی ہے، جو اسرائیل کے رات گئے کیے گئے حملے کے دعوے کی تائید کرتی ہے۔ ایران نے نقصان کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع دی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ فوج نے ایرانی شہر قم میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جہاں علما کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر غور کے لیے جمع ہونے کی توقع تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوج ابھی جائزہ لے رہی ہے کہ کوئی ہدف بنا یا نہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کے ان مقامات پر بھی فضائی حملے کیے جہاں بیلسٹک میزائل تیار اور ذخیرہ کیے جاتے ہیں، اور اس نے اس چیز کو تباہ کر دیا جسے اس نے ایران کا خفیہ زیرِ زمین جوہری ہیڈکوارٹر قرار دیا۔ بغیر شواہد فراہم کیے اس کا کہنا تھا کہ یہ مقام ’جوہری ہتھیاروں کے لیے ایک اہم جزو تیار کرنے‘ کی تحقیق کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

اس مقام کے بارے میں جس کا اسرائیل نے نام لیا، امریکہ یا ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جون کے بعد سے یورینیم کی افزودگی نہیں کی، اگرچہ اس نے ایسا کرنے کے اپنے حق کو برقرار رکھا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔


صبح 6 بجے: 17 ایرانی جہازوں کو تباہ کیا، 2000 اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی سینٹرل کمانڈ

امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے منگل کو بتایا ہے کہ امریکی فوج نے 17 ایرانی جہازوں کو تباہ کر دیا ہے، جن میں ایک آبدوز بھی شامل ہے جبکہ ایران میں تقریباً 2,000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی مرکزی کمان کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایکس پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا: ’آج، خلیجِ عرب، آبنائے ہرمز یا خلیجِ عمان میں ایک بھی ایرانی جہاز زیرِ سفر نہیں ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *