چار دن قبل ایران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کے 50 کے قریب سویلین اور فوجی رہنما مارے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران پر امریکی اسرائیلی دو حملوں نے ان شخصیات کو مار دیا ہے جنہیں وہ ممکنہ نئے رہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ذہن میں موجود زیادہ تر لوگ مر چکے ہیں۔‘
اہم شخصیات کی اموات کے باوجود ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کو نہ صرف برداشت کر رہا ہے بلکہ ان کا مؤثر جواب بھی دے رہا ہے۔
تقریباً 50 سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد ایران نے صرف ایک بار اپنے سپریم لیڈر کو تبدیل کیا جب علی خامنہ ای نے 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جگہ لی۔
یکم مارچ 2026 کو علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب تک اقتدار سنبھالنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی۔ ان اہم شخصیات میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، آیت اللہ علی رضا اعرافی اور ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی شامل ہیں۔
لیکن منگل کو نیوز چینل ایران انٹرنیشنل کا دعوی ہے کہ اسے حاصل معلومات کے مطابق ایران کی مجلس ماہرین نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے دباؤ پر علی خامہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اگلا سپریم لیڈر منتخب کر لیا۔ البتہ یہ فیصلہ عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا اور توقع ہے کہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئے رہنما کا انتخاب ’ایک دو روز میں‘ ہونے کی بات کی تھی لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔
مندرجہ سطور میں ان شخصیات کا تعارف ہے جو اس وقت ایران میں اہم فیصلوں اور اقدامات کے لیے ذمہ دار ہیں۔
علی لاریجانی، سیکرٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل
کئی دہائیوں تک علی لاریجانی ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا پرسکون، عملی چہرہ تھے، ایک ایسا شخص جس نے 18ویں صدی کے جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ پر کتابیں لکھیں اور مغرب کے ساتھ جوہری معاہدوں پر بات چیت کی۔
لیکن یکم مارچ 2026 کو امریکی اسرائیلی حملے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مارے جانے کے بعد 67 سالہ لاریجانی کا لہجہ بالکل بدل گیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’امریکہ اور صہیونی حکومت (اسرائیل) نے ایرانی قوم کے دل کو آگ لگا دی ہے۔ ہم ان کے دلوں کو جلا دیں گے، ہم صہیونی مجرموں اور بے شرم امریکیوں کو اپنے کیے پر پچھتاوا کر دیں گے۔‘
لاریجانی، جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ’اسرائیلی جال‘ میں پھنسنے کا الزام لگایا تھا، اب 1979 کے بعد اپنے سب سے بڑے بحران پر تہران کے ردعمل کا مرکز ہیں۔
توقع ہے کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کو چلانے والی تین رکنی عبوری کونسل کے ساتھ ان کا اہم کردار ہو گا۔
لاریجانی، ایرانی پارلیمنٹ کے سابق سپیکر، اگست سے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔
2005 میں ایران کے صدر کے لیے انتخاب لڑنے والے لاریجانی کو 2021 اور 2025 میں انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
ایران کی پاسداران انقلاب میں 10 سال سے زیادہ رہنے کے بعد، لاریجانی گذشتہ تین سے زیادہ دہائیوں میں ایرانی حکومت میں کئی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
اتوار کو انہوں نے واضح کیا کہ ایران تنازع کے درمیان اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں پر امریکہ کے ساتھ ’بات چیت نہیں کرے گا۔‘
آیت اللہ علی رضا اعرافی
علی رضا اعرافی آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کو چلانے والی تین رکنی عبوری قیادت کونسل کا حصہ ہیں۔
ماہرین کی 88 رکنی اسمبلی کے رکن، جو ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے، اعرافی 2016 سے ایران کے مدرسے چلا رہے ہیں۔
انہوں نے ایران کے شہر قم میں واقع المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے انچارج کے طور پر بھی ایک دہائی گزاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر مسعود پزشکیان
انقلاب کے بعد سے ایران کے 9ویں صدر پزشکیان بھی عبوری قیادت کونسل کا حصہ ہیں۔ ان کے دور اقتدار میں ایران نے 2024 میں حماس، حزب اللہ اور ایران کے عہدیداروں کے قتل کے جواب میں اسرائیل سے 12 روزہ جنگ کی۔
71 سالہ دل کے سرجن جو ایران میں اصلاح پسند تحریک کا حصہ ہیں، پزشکیان نے ملک کے وزیر صحت اور طبی تعلیم کے طور پر چار سال تک رہنے کے بعد 2008 میں ایرانی پارلیمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔
پزشکیان نے اتوار کے روز سوشل پلیٹ فارم ایکسپر لکھا، ’رہبر انقلاب اسلامی کی شعلہ انگیز شہادت آنے والے کئی سالوں تک ایرانی قوم کے ساتھ رہے گی۔ مجرموں کا جرم اور ایران کے عزیزوں کی شہادت اور ایرانی جمہوریہ کی تکمیل کے لیے حکومت کے عزم میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔ ہم ایران کے فخر، آزادی اور شان کے راستے پر گامزن ہیں۔‘
غلام حسین محسنی اژہ ای
عبوری قیادت کونسل کے تیسرے رکن، محسنی اژهای کو خامنہ ای نے 2021 میں چیف جسٹس مقرر کیا تھا۔ انہوں نے دسمبر اور جنوری میں ایرانی مظاہرین کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کیا، کیونکہ ملک میں حکومت مخالف جذبات پھیل گئے تھے۔
2000 کی دہائی میں محسنی اژهای نے ایران کے وزیر انٹیلی جنس کے طور پر چار سال گزارے۔ انہیں سابق صدر محمود احمدی نژاد نے برطرف کر دیا تھا۔
اس کے بعد انہوں نے ایران کے پراسیکیوٹر جنرل کے طور پر پانچ سال اور اپنے پیشرو چیف جسٹس، سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے پہلے نائب کے طور پر سات سال گزارے۔
علاقائی کمانڈر بااختیار
ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکام نے بڑی فوجی کارروائی کی توقع کی ہے اور اس نے پہلے سے ہی چین آف کمانڈ کو ڈیسنٹرالائزڈ کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے حملوں کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سینیئر قیادت نااہل ہو جائے تو علاقائی اور صوبائی کمانڈروں کو پہلے سے آپریشنل اختیار دے دیا گیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
