ایک طرف جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں، وہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ انہیں رواں ہفتے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے بعد چند دنوں میں ایک جوابی مسودہ تیار ہونے کی توقع ہے۔
دو امریکی حکام نے بتایا کہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی منصوبہ بندی ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکی ہے جس میں حملے کے حصے کے طور پر افراد کو نشانہ بنانا اور اگر ٹرمپ حکم دیں تو تہران میں قیادت کی تبدیلی کی کوشش کرنا بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاریوں کے درمیان تہران کو اپنا دیرینہ جوہری تنازع حل کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کی غرض سے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، بصورت دیگر انہیں ’بہت برے حالات‘ کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ایک وسیع تر جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
حملے کی دھمکیاں
جمعہ کو یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے محدود حملے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا: ’میرا خیال ہے کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔‘ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی ایک پریس کانفرنس میں ایران کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے مزید کہا: ’ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایک منصفانہ معاہدہ کر لیں۔‘
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رواں ہفتے جنیوا میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے بعد کہا کہ دونوں فریق اہم ’رہنما اصولوں‘ پر مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ عنقریب ہونے والا ہے۔
عباس عراقچی نے ایم ایس ناؤ پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے پاس ایک جوابی مسودہ موجود ہے جو اعلیٰ ایرانی حکام کے جائزے کے لیے اگلے دو یا تین دنوں میں تیار ہو سکتا ہے، جب کہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مزید بات چیت کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دے گی۔
جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات اور کچھ فوجی ٹھکانوں پر بمباری کے بعد، جنوری میں جب تہران نے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کو طاقت کے زور پر کچل دیا، تو ٹرمپ نے دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
جمعے کو کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے عوام اور ملک کی قیادت کے درمیان فرق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’نسبتاً مختصر عرصے میں 32 ہزار افراد جان سے گئے۔‘
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ بہت، بہت، بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملہ کرنے کی ان کی دھمکیوں کی وجہ سے قیادت نے دو ہفتے قبل بڑے پیمانے پر پھانسیاں دینے کے منصوبے ترک کر دیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے والے تھے۔ اور میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے، یہاں تک کہ ایک شخص کو بھی، تو اسی وقت آپ پر حملہ کر دیا جائے گا۔‘
امریکہ میں قائم گروپ ہرانا (ایچ آر اے این اے)، جو ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھتا ہے، نے سات ہزار 114 مصدقہ اموات ریکارڈ کی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ مزید 11 ہزار 700 اموات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اموات کی تعداد پر ٹرمپ کے بیانات کے چند گھنٹے بعد، عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی حکومت بدامنی میں مرنے والے تمام تین ہزار 117 افراد کی ’جامع فہرست‘ پہلے ہی شائع کر چکی ہے۔
انہوں نے ایکس پر پوسٹ کہا کہ ’اگر کسی کو ہمارے ڈیٹا کی درستی پر شک ہے تو براہ کرم ثبوت کے ساتھ بات کریں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ معاہدہ ’بہت کم وقت‘ میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کوئی مخصوص وقت نہیں بتایا کہ ایران اپنا جوابی مسودہ کب وٹکوف اور کشنر کو دے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایک سفارتی معاہدہ پہنچ میں ہے اور اسے ’بہت کم وقت میں‘ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی کیبل ٹیلی ویژن نیوز نیٹ ورک ایم ایس ناؤ کو بتایا کہ جنیوا مذاکرات کے دوران، امریکہ نے یورینیم کی افزودگی کو صفر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا اور ایران نے افزودگی معطل کرنے کی پیشکش نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ’اب ہم جس چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ افزودگی سمیت ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور ہمیشہ پرامن رہے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں پر کارروائی کے بدلے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پروگرام پرامن رہے گا، تکنیکی اور سیاسی طور پر ’اعتماد سازی کے اقدامات‘ نافذ کیے جائیں گے، تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
عباس عراقچی کے تبصروں کے بارے میں پوچھے جانے پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’صدر نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار یا انہیں بنانے کی صلاحیت نہیں ہو سکتی اور وہ یورینیم افزودہ نہیں کر سکتے۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے خطے میں بڑھتی ہوئی بیان بازی اور فوجی سرگرمیوں پر خدشات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں ایک باقاعدہ نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’ہم امریکہ اور ایران دونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری جاری رکھیں۔‘
