وزارت برائے بیرون ملک پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے رواں ہفتے بتایا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں پروازوں میں خلل اور ایران جنگ کے سبب پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث دیگر ممالک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد میں 10,000 کی کمی آئی ہے۔
خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان لاکھوں پاکستانی ورکرز کے لیے پسندیدہ مقامات ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی ماہر اور غیر ماہر افراد ان ممالک میں جا کر ملازمت کرتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے اور اس کے بعد تہران کی جانب سے خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملوں نے پورے خطے کو انتشار میں ڈال دیا ہے۔
سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری نے جمعرات کو عرب نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ابھی تک اس جنگ کے باعث پاکستانی مزدوروں کے بڑے پیمانے پر خطے سے انخلا نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت ہر ماہ تقریباً 60,000 افراد کی روانگی کے انتظامات کرتی ہے، جبکہ مارچ میں یہ تعداد 50,000 تک گر گئی۔ انہوں نے اس کمی کا سبب نہ صرف علاقائی کشیدگی بلکہ جنگ کے سبب پروازوں کی محدود دستیابی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو بھی قرار دیا۔
اسلم چوہدری نے کہا: ’اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہم حکومت کی اعلیٰ سطح کی مشاورت کے ذریعے فعال طور پر نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔
’ہم اس وقت ان شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کی نشاندہی کر رہے ہیں جیسے تعمیرات اور صحت کی دیکھ بھال، جو بحران کے بعد بڑھ گئے ہیں۔‘
خلیجی ممالک سے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو فروری میں 3.3 ارب ڈالر کی بیرون ملک ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے بڑے حصہ دار تھے۔
اسلم چوہدری نے کہا کہ جنگ کے اقتصادی اثرات کا واضح اندازہ آنے والی ترسیلات کے اعداد و شمار سے ہوگا۔
انہوں نے کہا: ’اپریل کی ترسیلات کے اعداد و شمار اس صورت حال کے حقیقی اقتصادی دائرہ کار کو ظاہر کریں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ خلل قابلِ انتظام ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ معمولی کمی کی توقع ہے، ہماری تشخیص کے مطابق ترسیلات کا بہاؤ مستحکم رہے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال 763,000 پاکستانی ورکرز خلیجی ممالک گئے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سال کے ہدف میں ترمیم کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
بقول اسلم چوہدری: ’اگرچہ اس سال ہمارا ابتدائی ہدف 800,000 تھا، لیکن موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورت حال میں ان اہداف کی سٹریٹجک انداز میں دوبارہ ترتیب ضروری ہے۔‘
’ہم پر شدید اثر پڑا‘
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ افرادی قوت کی برآمد میں کمی خطے میں محسوس کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جو سفر میں رکاوٹوں کے باعث متاثر ہوتے ہیں، جیسے ہوٹلوں وغیرہ کی صنعت۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں ورکرز بھیجنے والی پاکستانی کمپنی ’جان محمد اینڈ سنز‘ کے چیئرمین عصام بیگ نے کہا کہ بحران کا اثر اہم مگر وقتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’یہ ہم پر شدید اثر ڈال رہا ہے۔ زیادہ تر مزدور جو ہم پاکستان سے بھرتی کرتے ہیں وہ مشرق وسطیٰ جا رہے ہیں اور اس وقت (جنگ کا) مرکز مشرق وسطیٰ ہے۔‘
1943 سے افرادی قوت برآمد کرنے والی اس کمپنی نے گذشتہ چار سے پانچ سال میں 15,000 سے 20,000 مزدور بھرتی کر کے مشرق وسطیٰ بھیجے۔ ان کی کمپنی پہلے زیادہ تر ہوٹل و ضیافت کے شعبے کے لیے بھرتی کرتی تھی۔
عصام بیگ نے مزید کہا: ’ظاہر ہے، چونکہ یہاں سیاح نہیں آ رہے، ہوٹل کی صنعت واقعی کمزور ہو گئی ہے۔‘
تاہم ان کا ماننا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد یہ صنعت واپس آئے گی۔
انہوں نے کہا: ’میں اس بارے میں بہت پر امید ہوں کہ یہ عارضی مرحلہ ہے۔‘
انہوں نے حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ بحران کے دوران ان کی کمپنی کو سپورٹ کر رہی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ جنگ کے دوران ان کی کمپنی کون سے دیگر مواقع تلاش کر رہی ہے، تو انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’تعمیراتی صنعت دوبارہ فروغ پائے گی۔‘
عصام بیگ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ورکرز بھیجنے والے دیگر ممالک بھی اس جنگ کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا: ’جو اعداد و شمار کم ہوئے ہیں وہ صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پورے برصغیر سے ہیں، جہاں سے یہ ورکرز بھرتی کیے جاتے ہیں۔‘
