ایران جنگ پر بات چیت: پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کا اجلاس آج اسلام آباد میں

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے خطے میں موجود کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرا خارجہ آج بروز اتوار کو اسلام آباد میں مل رہے ہیں۔

ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اس اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کی شب اسلام آباد پہنچ گئے جب کہ سعودی وزیر خارجہ کی آمد آج ہو رہی ہے۔

29 اور 30 مارچ کو جاری رہنے والے ان مذاکرات کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم سینیٹر اسحٰق ڈار کریں گے۔

دفتر خارجہ نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں بتایا تھا کہ دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت متعدد امور پر تفصیلی مشاورت ہو گی۔

بیان کے مطابق پاکستان ’سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے برادر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

’یہ دورہ باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔‘

اسحٰق ڈار نے بھی کل نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں اس اہم دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مہمان وزرائے خارجہ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

انہوں نے بتایا ’ہماری ملاقات ترکی میں طے تھی، تاہم مصروفیات کی وجہ سے میں نے بھائیوں کو اسلام آباد میں دعوت دی۔‘

انہوں نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور ’ایمان داری، نیک نیتی سے تنازع ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے باعث میڈیا پر بات چیت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔‘

پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں بتایا تھا کہ اسلام آباد اس حوالے سے ’ایک پرخلوص اور فعال کردار ادا کر رہا ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کی بہتری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں خود کئی بار ایران اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت سے بات کر چکا ہوں تاکہ امن کی راہ ہموار ہو اور برادر اسلامی ممالک کو نقصان سے بچایا جا سکے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس حوالے سے ہفتے کو شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک گفتگو کی جس میں مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی صدر کو کشیدگی ختم کرانے کے سلسلے میں سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا۔

ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس تفصیلی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیل سے بات چیت کی۔

بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے جاری سفارتی رابطوں کے بارے میں بتایا جن کا مقصد امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کو مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے متحرک کرنا ہے۔

ادھر ہفتے کی رات اسحٰق ڈار نے اپنی ایکس پوسٹ میں بتایا کہ ایران نے پاکستان کے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے یہ اہم خبر شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دو جہاز روزانہ اس آبنائے کو عبور کریں گے۔‘

اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطہ کر کےعلاقائی صورت حال اور تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’ پائیدار امن کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *