ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد سوشل میڈیا پر جعلی پوسٹس، ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار ہے، جنہیں بہت سے لوگ سچ مان کر جنگ کے بعد میں غلط معلومات حاصل اور شیئر کر رہے ہیں۔
بہت سے صارفین نے ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی پائلٹوں کو دھوکہ دے کر ایران میں پینٹ کیے گئے نقلی طیاروں پر بمباری کروائی گئی۔
تاہم یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ یہ تصاویر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئیں اور حقیقی حملوں کو نہیں دکھاتیں۔
چھ مارچ، 2026 کو ایک جنوبی افریقی اکاؤنٹ سے شائع کی گئی ایسی ہی فیس بک پوسٹ میں لکھا گیا ’تو اسرائیل اور امریکہ اصلی طیاروں کی بجائے پینٹنگز پر بمباری کرتے رہے ہیں ایران نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے اصلی جیٹس زیر زمین منتقل کر دیے تھے۔‘
اس پوسٹ میں بظاہر ایک ہوائی اڈے کی سیٹلائٹ تصویر شامل ہے جس میں بم گرنے سے بننے والے گڑھے کے دونوں جانب فوجی طیاروں سے مشابہہ دو پینٹ کیے گئے سائے دکھائے گئے ہیں۔
یہ پوسٹ مختلف زبانوں میں ہزاروں بار شیئر کی جا چکی ہے۔
تاہم اے ایف پی فیکٹ چیک کی جانب سے تصویر کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے دو مختلف ڈیٹیکٹرز نے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ اسے ایک اے آئی ٹول کے ذریعے بنایا گیا تھا، جس کا تعلق غالباً گوگل سے ہے۔
یہ ٹیک کمپنی کی ’سنتھ آئی ڈی‘ (SynthID) ٹیکنالوجی کے مطابق ہے، جو گوگل کے کسی ایک اے آئی ماڈل، جیسے کہ ’جیمنی‘ (Gemini) یا ’ویو‘ (Veo) کی جانب سے بنائے گئے مواد پر اپنے پوشیدہ واٹرمارکس کا پتہ لگا سکتی ہے۔
’ہائیو ماڈریشن‘ کے ساتھ کیے گئے دوسرے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس بات کا 99 فیصد امکان ہے کہ یہ تصویر اے آئی سے بنائی گئی تھی۔
یہ واحد مثال نہیں۔ ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے والی مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز میں ایران کی جانب سے پکڑے گئے امریکی فوجیوں، ایک تباہ حال اسرائیلی شہر اور امریکی سفارت خانوں کو آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا، جو جنگ کے دوران غلط معلومات کو روکنے کے لیے پالیسی کریک ڈاؤن کے باوجود بظاہر اصل نظر آنے والی ڈیپ فیکس کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بصری مواد کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے، جس نے گذشتہ تنازعات میں دیکھی گئی ہر چیز سے کہیں آگے بڑھ کر سوشل میڈیا صارفین کو حقیقت اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔
ایکس نے تنازعات کے دوران ’مستند معلومات‘ کے تحفظ کی کوشش میں گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اگر کری ایٹرز مصنوعی ذہانت سے بنی جنگی ویڈیوز کو یہ بتائے بغیر پوسٹ کرتے ہیں کہ وہ مصنوعی طور پر بنائی گئی ہیں تو وہ انہیں 90 دن کے لیے اپنے ریونیو شیئرنگ پروگرام سے معطل کر دے گا۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ بعد میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں مستقل معطلی ہو گی۔
یہ نئی پالیسی ایک ایسے پلیٹ فارم کے لیے ایک قابل ذکر تبدیلی ہے جسے اکتوبر 2022 میں مسک کی جانب سے 44 ارب ڈالر میں خریدے جانے کے بعد سے غلط معلومات کا گڑھ بننے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسے محکمہ خارجہ کی سینیئر اہلکار سارہ راجرز نے بھی سراہا، جنہوں نے اسے ایکس کے کمیونٹی نوٹس کے لیے ایک ’بہترین اضافہ‘ قرار دیا، جس کے نتیجے میں غلط مواد کی ’رسائی (اور اس طرح مونیٹائزیشن) کم‘ ہوتی ہے۔
لیکن غلط معلومات پر کام کرنے والے محققین اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک ڈائیلاگ کے جو بوڈنر نے اے ایف پی کو بتایا ’جن فیڈز کی میں نگرانی کرتا ہوں وہ اب بھی جنگ کے بارے میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد سے بھری ہوئی ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’ایسا نہیں لگتا کہ کری ایٹرز کو تنازعے کے بارے میں گمراہ کن اے آئی سے بنی تصاویر اور ویڈیوز پھیلانے سے روکا گیا ہے۔‘
بوڈنر نے ایک پریمیئر ’بلیو چیک‘ ایکس اکاؤنٹ (جو مونیٹائزیشن کا اہل ہے) کی ایک پوسٹ کی طرف اشارہ کیا، جس میں اسرائیل پر ایرانی ’جوہری صلاحیت کے حامل‘ حملے کو دکھانے والا اے آئی کلپ شیئر کیا گیا تھا۔
اس پوسٹ کو اے آئی مواد پر کریک ڈاؤن کے حوالے سے بیئر کے پیغام سے زیادہ ویوز ملے۔
جعلی مواد کے لیے ترغیب
اے ایف پی کے پوچھے جانے پر کہ بیئر کے اعلان کے بعد سے ایکس نے کتنے اکاؤنٹس کو ڈی مونیٹائز کیا، ایکس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
برازیل سے لے کر انڈیا تک اے ایف پی کے فیکٹ چیکرز کے عالمی نیٹ ورک نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بارے میں اے آئی سے بنی جعلی پوسٹس کے ایک طوفان کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے بہت سی ایکس کے پریمیئم اکاؤنٹس سے کی گئیں جن کے بلیو چیک مارکس خریدے جا سکتے ہیں۔
ان میں مصنوعی ذہانت سے بنی وہ ویڈیوز شامل ہیں جن میں بمباری سے تباہ ہونے والے سفارت خانے کے اندر ایک آبدیدہ امریکی فوجی، ایرانی پرچموں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے پکڑے گئے امریکی فوجیوں اور تباہ شدہ امریکی بحری بیڑے کو دکھایا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بصری مواد کا سیلاب، جو مشرق وسطیٰ کی مستند تصاویر کے ساتھ ملا ہوا ہے، اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ پیشہ ور فیکٹ چیکرز کے لیے ان کی تردید کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ایکس کا اپنا اے آئی چیٹ بوٹ گروک اس مسئلے کو مزید خراب کرتا دکھائی دیا، جس نے فیکٹ چیکنگ کے متلاشی صارفین کو غلط طور پر بتایا کہ جنگ کی متعدد اے آئی تصاویر اصلی تھیں۔
محققین نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایکس کے ماڈل نے، جو پریمیئم اکاؤنٹس کو انگیجمنٹ کی بنیاد پر پیسے کمانے کی اجازت دیتا ہے، جھوٹے یا سنسنی خیز مواد کو پھیلانے کی مالی ترغیب کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔
ایک پریمیئم اکاؤنٹ نے، جس نے دبئی کی فلک بوس عمارت برج خلیفہ کو آگ کی لپیٹ میں دکھانے والی اے آئی ویڈیو پوسٹ کی تھی، بیئر کی اس درخواست کو نظر انداز کر دیا کہ وہ مواد پر اے آئی کا لیبل لگائے۔
یہ پوسٹ آن لائن موجود رہی اور اسے دو ملین سے زیادہ ویوز ملے۔
’جوابی اقدام‘
گذشتہ ماہ ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ایکس بظاہر ایرانی حکومتی عہدے داروں اور ریاست کے زیر کنٹرول نیوز آؤٹ لیٹس کے دو درجن سے زائد پریمیئم اکاؤنٹس سے منافع کما رہا ہے جو پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایکس نے بعد میں ان میں سے کچھ کے بلیو چیک مارکس ہٹا دیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں تک کہ اگر ایکس کی ڈی مونیٹائزیشن پالیسی کو سختی سے نافذ کیا جائے، تب بھی اے آئی مواد پھیلانے والے ایکس صارفین کی ایک بڑی تعداد ریونیو شیئرنگ پروگرام کا حصہ نہیں۔
ان صارفین کو اب بھی کمیونٹی نوٹس کے ذریعے فیکٹ چیک کیا جا سکتا ہے، جو ایک ایسا نظام ہے جس کے موثر ہونے پر محققین نے بار بار سوالات اٹھائے ہیں۔
گذشتہ سال ڈیجیٹل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ آف امریکہ کی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ ایکس کے 90 فیصد سے زیادہ کمیونٹی نوٹس کبھی شائع نہیں ہوتے، جو اس کی بڑی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔
کارنیل ٹیک یونیورسٹی میں سکیورٹی، ٹرسٹ اینڈ سیفٹی انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر الیکسیوس مانٹزارلس نے کہا ’ایکس کی پالیسی جنگ کے بارے میں وائرل ہونے والی غلط معلومات کے خلاف ایک معقول جوابی اقدام ہے۔ اصولی طور پر، یہ پالیسی غلط معلومات پھیلانے والوں کے لیے ترغیبی ڈھانچے کو کم کرتی ہے۔‘
انہوں نے کہا ’اصل مسئلہ اس پر عمل درآمد کی تفصیلات میں ہو گا: اے آئی مواد کا میٹا ڈیٹا ہٹایا جا سکتا ہے اور کمیونٹی نوٹس نسبتاً کم ہیں۔‘
’اس بات کا امکان کم ہے کہ ایکس اس پالیسی کے لیے اعلیٰ درستگی اور وسیع اطلاق دونوں کی ضمانت دے سکے۔‘
