مذہبی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے پیچھے اپنے بنیادی حامیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے مسیحی بیانیے کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایونجیلیکل رہنما اس پیغام کو منبروں سے پھیلا رہے ہیں اور اسے خیر اور شر کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ، جنہوں نے منگل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، امریکیوں کو اس جنگ کی حمایت پر آمادہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، امریکی فوجیوں اور ایرانیوں کی جانیں لی ہیں، اور ووٹروں میں ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے بار بار مسیحی اصطلاحات استعمال کی ہیں جس میں انہوں نے ایران میں ایک گرے ہوئے امریکی ہوا باز کی نجات کو ’ایسٹر کا معجزہ‘ قرار دیا اور یہ اشارہ دیا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو خدا کی تائید حاصل ہے۔ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں اور دشمنوں کے خلاف ’شدید تشدد‘ کے جواز کے لیے مذہبی صحیفوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں‘۔
اس پیغام کی گونج قدامت پسند مسیحی رہنماؤں میں بھی سنائی دی ہے، جن میں ٹرمپ کے قریبی رابرٹ جیفریس، جو ٹیکسس کے ایک بااثر پادری ہیں، سے لے کر چھوٹے قصبوں کے مبلغین شامل ہیں۔ انہوں نے جدید ریاستِ اسرائیل کی بائبل کے مطابق اہمیت پر زور دیا ہے، جسے کئی ایونجیلیکلز حضرت عیسیٰ کی دوسری آمد کی پیشگوئی سے جوڑتے ہیں۔
ایونجیلیکلز ایران جنگ کو خیر اور شر کی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں
جیکسن لہمائیر، جو ایک مبلغ اور ٹرمپ کے حامی ہیں اور امریکی کانگریس کے امیدوار بھی ہیں، نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اتوار کے خطبات میں اپنی جماعت کو بتایا کہ جنگیں عام طور پر خیر اور شر کے درمیان لڑائی ہوتی ہیں اور ایران اس سے مستثنیٰ نہیں۔
انہوں نے کہا، ’بدکردار لوگ وجود رکھتے ہیں، اور اگر آپ ان سے نہیں نمٹیں گے تو وہ آپ سے نمٹیں گے۔ خیر اور شر، یہی بائبل کی کہانی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ آخر میں ہمیشہ خیر کی جیت ہوتی ہے۔‘
سفید فام ایونجیلیکلز ٹرمپ کے مضبوط ترین حامیوں میں شامل ہیں۔ 2024 کے پولز کے مطابق، 80 فیصد سے زائد نے انہیں ووٹ دیا تھا اور سروے بتاتے ہیں کہ وہ ان کی کل حمایت کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں۔ کئی ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ یہی سیاسی حقیقت وہ بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان اس تنازعے کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔
فرمین یونیورسٹی کے پروفیسر جم گوتھ، جو امریکی سیاست میں مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’مسٹر ٹرمپ کی مقبولیت دیکھیں اور تسلیم کریں کہ صرف ایک تہائی سے تھوڑی زیادہ عوام ان کے ساتھ ہے۔ اس حلقے کا ایک بڑا حصہ سفید فام ایونجیلیکل مسیحیوں پر مشتمل ہے‘۔
وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی مذہبی زبان پر سوالات کا جواب نہیں دیا، لیکن ترجمان ٹیلر روجرز نے ایک بیان میں کہا کہ صدر نے ’اس دہشت گرد حکومت کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے جرات مندانہ اقدام کیا ہے، جو آنے والی نسلوں تک امریکی عوام کا تحفظ کرے گا‘۔
تاریخ دان بتاتے ہیں کہ امریکی صدور نے ہمیشہ جنگ کے وقت مسیحی عقیدے کا سہارا لیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تشدد کے جواز کے لیے کھلم کھلا اور غیر مبہم مذہبی زبان کا استعمال اسے منفرد بناتا ہے۔ مسیح یونیورسٹی کے پروفیسر جان فِیا کہتے ہیں، ’یہ وہی زبان ہے جو قرونِ وسطیٰ کی صلیبی جنگوں میں استعمال ہوتی تھی۔ ہمیں کافروں کو روکنا ہوگا، ہمیں بدکاروں کو شکست دینی ہوگی۔ ہم نے امریکی تاریخ میں ایسا کچھ پہلے کبھی نہیں دیکھا‘۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس مذہبی پیغام رسانی پر کچھ ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے مسیحی رہنماؤں نے تنقید کی ہے، جو اسے ایک غیر مقبول جنگ کے جواز کے لیے عقیدے کا غلط استعمال قرار دیتے ہیں۔ پوپ لیو نے پام سنڈے کے موقع پر سینٹ پیٹرز سکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے اس تنازعے کو ’خوفناک‘ قرار دیا اور کہا کہ یسوع کا نام کبھی بھی جنگ کی تشہیر کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ایک پروگریسو پادری ڈوگ پیگٹ کا خیال ہے کہ انتظامیہ ایونجیلیکلز کو اپنے ساتھ رکھنے اور ٹرمپ کے ’ماگا‘ (MAGA) اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ’مخصوص مسیحی بیانیہ‘ استعمال کر رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے ایک سروے کے مطابق، 60 فیصد رائے دہندگان نے ایران پر امریکی حملوں کی مخالفت کی، جس میں ریپبلکنز کی 74 فیصد حمایت کے مقابلے میں ڈیموکریٹس میں صرف 22 فیصد حمایت دیکھی گئی۔
وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں ٹرمپ کو عیسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی گئی
معروف مبلغ فرینکلن گراہم نے ایران پر حملوں کو بائبل کی ملکہ ایستھر سے تشبیہ دی ہے، جنہوں نے اپنے لوگوں کو تباہی سے بچایا تھا۔ ٹینیسی کے پیٹریاٹ چرچ کے رہنما کین پیٹرز نے بھی اپنی جماعت کو یہی پیغام دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ جنگ ایک ’اسرائیل نواز اور امریکہ نواز ایران‘ پیدا کرے گی۔
ہیگستھ نے خاص طور پر اس جنگ کو مذہبی رنگ دیا ہے۔ اتوار کو انہوں نے ایران میں امریکی ہوا باز کی نجات کو ایسٹر کے دن حضرت عیسیٰ کے جی اٹھنے سے تشبیہ دی۔ پینٹاگون کے ترجمان کنگسلے ولسن نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جنگی رہنماؤں نے ہمیشہ مسیحی عقیدے کا حوالہ دیا ہے، جیسے روزویلٹ نے دوسری جنگِ عظیم میں فوجیوں میں بائبل تقسیم کی تھی۔
گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کی ایک تقریب میں بھی ایسی ہی زبان استعمال کی گئی۔ ٹیلی ایونجیلسٹ پاؤلا وائٹ کین نے ٹرمپ کو عیسیٰ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کو ’دھوکہ دیا گیا، گرفتار کیا گیا اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔‘
ٹیکسس کے پادری جیفریس نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ جنگ اسلام کے خلاف ہے، بلکہ یہ ’خیر اور شر، خدا کی بادشاہت اور شیطان کی بادشاہت کے درمیان ایک روحانی جنگ ہے۔‘
