امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی گہرائی میں موجود جوہری مراکز سے یورینیم قبضے میں لینے کے لیے ایک خطرناک فوجی آپریشن شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو اس جنگ میں ایک بڑی شدت کی نمائندگی کرے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے پر امریکی صدر نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم وال سٹریٹ جنرل کے مطابق وہ اس خیال پر غور کر رہے ہیں اور امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اتوار کو ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو اپنا انتہائی افزودہ یورینیم ترک کرنا ہو گا۔
انہوں نے یورینیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اس وقت تباہ ہو چکے ہیں، وہ جوہری ہتھیار چھوڑ دیں گے اور ہمیں نیوکلیئر ڈسٹ دیں گے۔ وہ وہ سب کچھ کریں گے جو ہم چاہتے ہیں، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کا ملک باقی نہیں رہے گا۔‘
ایران کا یورینیم قبضے میں لینا ایک پیچیدہ آپریشن ہو گا جس میں امریکی فوجیوں کو ایرانی افواج کی فائرنگ کے دوران جوہری تنصیبات تک پرواز کر کے پہنچنا ہو گا۔ جنگی دستوں کو ان مقامات کے گرد و نواح کو محفوظ بنانا ہو گا جبکہ جہاز پر موجود انتہائی ہنر مند تکنیکی عملے اور انجینیئرز تابکار مواد نکالنے میں مدد کریں گے۔ اس مواد کو بغیر کسی حادثے کے ملک سے باہر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 40 سے 50 خصوصی سلنڈروں میں لے جانے کی ضرورت ہو گی۔ انہیں اس علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز آلات کا بھی جائزہ لینا ہو گا جو سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’پینٹاگون کا کام تیاری کرنا ہے تاکہ کمانڈر انچیف کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جا سکیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے۔‘
پینٹاگون نے ان رپورٹوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے وال سٹریٹ جنرل کے رابطہ کرنے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
گذشتہ سال بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے۔ یہ بھی رپورٹ ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 200 کلوگرام 20 فیصد فسائل مٹیریل ہے جسے آسانی سے 90 فیصد ہتھیاروں کے درجے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری ری ایکٹرز یا طبی وجوہات کے لیے اتنی زیادہ افزودگی کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ ممکنہ طور پر ہتھیاروں کے لیے ہو سکتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے، جبکہ 1985 میں ہیروشیما پر گرائے گئے بم میں وہ مواد شامل تھا جو 80 فیصد افزودہ تھا۔ جوہری بم 60 فیصد پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے لیکن اسے میزائلوں کے ذریعے نہیں پھینکا جا سکے گا۔
جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو ’تباہ‘ کر دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایرانی مقتدرہ نے بمباری سے پہلے مواد منتقل کر دیا تھا یا وہ زمین کے اندر کہیں موجود ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے پہلے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ یورینیم ان تین مقامات میں سے دو پر موجود ہے جن پر گذشتہ سال حملہ کیا گیا تھا، جن میں اصفہان میں ایک ایٹمی کمپلیکس کی زیرِ زمین سرنگ اور نطنز میں ایک ذخیرہ شامل ہے۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا اور عمان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق اس نے فروری میں جوہری مذاکرات کے حصے کے طور پر افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تہران نے زمینی حملے کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ امریکی فوجیوں کو ’موت کی دلدل‘ کی طرف لے جا رہے ہیں۔
