گذشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای مضبوط امیدوار کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
وہ خامنہ ای کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ 28 فروری کو ایران پر حملے کے پہلے ہی دن ان کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن کی بھی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت مجبتیٰ حملے کے مقام پر موجود نہیں تھے۔
ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والی کونسل کے رکن آیت اللہ احمد خاتمی نے بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کیا تھا کہ کونسل ’فیصلے کے قریب ہے‘، تاہم انہوں نے کوئی نام نہیں دیے۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے ایکسیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی ان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ’ہلکے‘ (لائٹ ویٹ) امیدوار ہیں، اور یہ کہ ’ہم کوئی ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں نظم و ضبط اور امن لا سکے۔‘
یہ ٹرمپ کی جانب سے مجبتیٰ خامنہ ای کا پہلا ذکر نہیں ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے مجتبیٰ پر یہ الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ کوئی باقاعدہ حکومتی عہدہ نہ رکھنے کے باوجود سپریم لیڈر کی جانب سے سرکاری حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ آٹھ ستمبر 1969 کو ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے علاقے خامنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کے خاندان کو خامنائی یا خامنہ ای کہا جاتا ہے۔
17 سال کی عمر میں، انہوں نے مختصر عرصے کے لیے ایران، عراق جنگ میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں ہی عوام کی توجہ حاصل کرنا شروع کی، جس وقت تک ان کے والد کی بطور سپریم لیڈر عمل داری مضبوطی سے قائم ہو چکی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مجتبیٰ خامنہ ای نے قم سے دینی تعلیم حاصل کی ہے، اور ان کے پاس حجتہ اللہ کا عہدہ ہے، جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم ہے۔ یہ بات ان کے سپریم لیڈر بننے کی راہ میں آڑے آ سکتی ہے۔
انہوں نے اپنا زیادہ تر کریئر عوامی عہدوں سے الگ لیکن اقتدار کے قریب اپنے والد سپریم لیڈر کے دفتر میں کام کرتے ہوئے گزارا ہے۔ انہیں اکثر باقاعدہ کوئی عہدہ رکھنے والی عوامی سیاسی شخصیت کے بجائے ایک گیٹ کیپر اور پاور بروکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات
مجبتیٰ کے ایران کی طاقت ور فوج پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب ان کی تقرری پر زور دے رہی ہے، تاہم ایک تجزیہ کار نے اخبار کو بتایا کہ ان کا اس وقت انتخاب درست فیصلہ ہو گا کیوں کہ مجتبیٰ سکیورٹی اور عسکری نظام سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ انہیں والد کی امریکی اسرائیلی حملے میں موت کی وجہ سے عوامی ہمدردی بھی حاصل ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین اور چند دوسرے مغربی میڈیا نے الزام لگایا تھا کہ مجتبیٰ ایران میں بڑے پیمانے پر اثاثوں کے مالک ہیں۔ جب مغربی ملکوں نے ایران کے اربوں ڈالر منجمد کیے تو اس میں مجتبیٰ کے بھی اثاثے شامل تھے۔
دی کنورسیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ مجتبیٰ کی شہرت دو اہم خصوصیات پر مرکوز رہی ہے۔ پہلی خصوصیت ایران کے سکیورٹی اداروں، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کور اور اس کے سخت گیر نیٹ ورکس کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔
دوسری خصوصیت اصلاح پسند سیاست اور مغربی ممالک کے ساتھ روابط کی سخت مخالفت ہے۔
ناقدین انہیں 2009 کے متنازع صدارتی انتخاب کے بعد ہونے والے مظاہروں کو کچلنے سے جوڑتے ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ انہوں نے ایران کی سرکاری نشریاتی تنظیم پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، جس سے انہیں ملک کے معلوماتی منظر نامے اور ریاستی بیانیے کے کچھ حصوں پر بالواسطہ کنٹرول حاصل ہوا۔
تاہم وہ زیادہ تر پس منظر میں رہے ہیں اور میڈیا پر زیادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا کسی سیاسی جلسے کی قیادت کرنے، عوامی اجتماعات سے خطاب، یا بڑی مساجد میں امامت کا زیادہ ریکارڈ نہیں ہے۔
سپریم لیڈر کی تقرری
ایرانی آئین کے مطابق علما کی ایک 88 رکنی کونسل سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ یہ کونسل ممکنہ امیدواروں کی مذہبی، سیاسی اور قائدانہ اہلیت کی فہرست بناتی ہے۔
دوسری جانب دی کنورسیشن کے مطابق عملی طور پر یہ ایک غیر جانبدار انتخابی ادارہ نہیں ہے۔ خود کونسل کے امیدواروں کی جانچ پڑتال ان اداروں کے ذریعے کی جاتی ہے جو بالآخر سپریم لیڈر کے حلقہ اثر سے تشکیل پاتے ہیں، اور اس کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے۔
یہ بات اس وقت اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مجتبیٰ کو ایک قابل عمل سپریم لیڈر کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے، اس تنقید کے باوجود کہ ان کے پاس اس عہدے سے روایتی طور پر جڑا ہوا اعلیٰ مذہبی رتبہ نہیں ہے۔
مجتبیٰ کے بطور سپریم لیڈر انتخاب میں ایک متنازع نکتہ یہ ہے کہ 1979 میں شاہ کا تختہ الٹتے وقت انقلاب کے موروثی حکمرانی کو مسترد کر دیا تھا۔
اس لیے بہت سے ایرانیوں کے لیے والد کی جگہ بیٹے کو سپریم لیڈر بنانا نظریاتی پسپائی کے مترادف ہو سکتا ہے۔
وہ اپنے والد سے کتنے مختلف ہوں گے؟
یہ ایران کے لیے سب سے اہم سوال ہے۔ اس کا جواب شاید اس سے کم مختلف ہو جس کی بہت سے لوگ توقع کر سکتے ہیں۔
علی خامنہ ای ایرانی انقلاب کے معماروں میں سے ایک تھے۔ پچھلے چار عشروں میں انہوں نے اپنے گرد طاقت کا اس قدر ارتکاز کر لیا تھا کہ وہ خود ہی نظام بن گئے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای اگر سپریم لیڈر بن جاتے ہیں تو انہیں اپنے والد جیسی حیثیت اور طاقت حاصل کرنا بےحد مشکل ثابت ہو گا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے وہ اپنے والد کی پالیسیاں ہی جاری رکھیں گے۔
دوسری طرف، چونکہ ان کے خاندان کے انتہائی قریبی افراد امریکی اور اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں، اس لیے ان کی جانب سے امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ کسی مفاہمت یا سمجھوتے کا امکان بھی کم ہے۔
