ایرانی خاتون فٹ بال کھلاڑی کا آسٹریلیا سے وطن واپسی کا فیصلہ

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ نے بدھ کو بتایا ہے کہ ان کی پولیس نے ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کے وفد کی مزید دو ارکان کو اپنے نگرانوں سے بچ نکلنے اور پناہ کی درخواست دینے میں مدد دی، تاہم ان میں سے ایک نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیر داخلہ ٹونی برک نے پارلیمان میں ٹیم کی اس رکن کے وطن واپس جانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اس سے ایک روز قبل ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں پناہ دے دی گئی تھی۔

ایک کھلاڑی اور معاون عملے کی ایک رکن نے منگل کی شام آسٹریلوی حکومت کی جانب سے دی گئی امداد کی کھلی پیشکش قبول کی تھی۔

ٹونی برک نے پارلیمان کو بتایا: ’ان دو میں سے ایک، جنہوں نے گذشتہ رات رکنے کا فیصلہ کیا تھا، نے ان ساتھی کھلاڑیوں میں سے کچھ سے بات کی جو واپس جا چکی تھیں اور اپنا ارادہ بدل لیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’آسٹریلیا میں لوگ اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں، لوگ سفر کر سکتے ہیں اور اسی لیے ہم اس تناظر کا احترام کرتے ہیں جس میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران واپس جانے کا فیصلہ کس کھلاڑی نے کیا۔

ٹونی برک نے بتایا کہ باقی کھلاڑیوں کو اُس وقت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جب واپس جانے کافیصلہ کرنے والی مذکورہ رکن نے ایرانی سفارت خانے سے رابطہ کر کے انہیں اپنے مقام کے بارے میں بتا دیا تھا۔

ان کھلاڑیوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات اس وقت بڑھ گئے تھے، جب ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے ٹیم کو ’جنگی غدار‘ قرار دیا، کیونکہ انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں آسٹریلیا میں ہونے والے ویمن ایشیا کپ کے میچ کے دوران قومی ترانہ گانے سے انکار کر دیا تھا۔

وفد کی مزید دو ارکان، 21 سالہ سٹرائیکر محدثہ ذلفی اور معاون عملے کی رکن زہرا سلطان مشککار، کو آسٹریلوی وفاقی پولیس کی مدد سے ٹیم کی باقی ارکان سے الگ کر دیا گیا تھا، اس سے قبل کہ وہ سڈنی جانے والی ایک اندرونِ ملک پرواز میں سوار ہوتیں۔

ملک چھوڑنے سے پہلے آسٹریلوی حکام نے سڈنی ایئرپورٹ پر ٹیم کی باقی ارکان کو ان کے ایرانی نگرانوں سے الگ کیا اور آسٹریلیا سے روانہ ہونے سے قبل انہیں ان کے آپشنز سے آگاہ کیا۔ ایئرپورٹ تک پہنچنے والے تمام افراد نے ایران واپس جانے کا انتخاب کیا۔

ٹونی برک نے کینبرا میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا: ’ہم نے یہ یقینی بنایا کہ نہ کوئی جلدی تھی اور نہ ہی کوئی دباؤ۔ سب کچھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھا کہ ان افراد کو وقار کے ساتھ فیصلہ کرنے کا موقع ملے۔‘

خاندانوں کے لیے خوف

آسٹریلوی وزیر دفاع نے کہا کہ کچھ کھلاڑیوں نے ان سے اپنے اہلِ خانہ کو ایران سے نکلنے میں مدد دینے کے امکان کے بارے میں پوچھا تھا۔

انہوں نے بتایا: ’ظاہر ہے، جب لوگ مستقل رہائشی بن جاتے ہیں تو انہیں خاندان کے دیگر افراد کی کفالت کرنے کے حوالے سے کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب اسی صورت میں معنی رکھتا ہے جب لوگ پہلے ایران سے نکل سکیں۔‘

کچھ کھلاڑیوں نے اپنے اہلِ خانہ سے مشاورت کے بعد اپنے اختیارات پر غور کیا، لیکن آسٹریلیا میں رہنے کی پیشکش قبول نہیں کی۔ ٹیم اب ایران واپسی کے راستے میں کوالالمپور پہنچ چکی ہے۔

ٹورنامنٹ میں ایرانی ٹیم کی مہم اسی وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے، جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جان سے چلے گئے تھے۔ ایرانی ٹیم اتوار (8 مارچ) کو ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی۔

آسٹریلیا میں مقیم ایرانیوں کے ایک گروپ نے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیا اور جب کھلاڑی ہوٹل سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئیں تو گولڈ کوسٹ میں ان کی بس کو گھیر لیا۔

ٹیلی وژن فوٹیج کے مطابق منگل کی شام سڈنی ایئرپورٹ پر بھی بڑی تعداد میں لوگ اس وقت موجود تھے، جب کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ٹرمینل منتقل کیا جا رہا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے منگل کو کہا کہ ٹیم کی باقی ارکان کو ’امن اور اعتماد کے ساتھ‘ ملک واپس آنے کی دعوت دی گئی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *