اڈیالہ کے باہر خاموشی: عمران خان کی رہائی کی تحریک کہاں کھڑی ہے؟

خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جب سہیل آفریدی صوبے کا نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا تو یہی امید کی جا رہی تھی کہ اب مزاحمت زور پکڑے گی، لیکن بظاہر اب لگ رہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کی مہم سست پڑ گئی ہے۔

ابتدا میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آئے روز پارٹی رہنماؤں سمیت اڈیالہ جاتے تھے اور عمران خان سے ملاقات کی کوشش میں رہتے تھے۔

کئی بار اڈیالہ کے باہر پارٹی کارکنان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا اور پولیس کے ساتھ تصادم کی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں، تاہم اب خاموشی چھا گئی ہے۔

سہیل آفریدی سمیت پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اب صرف بیانات کی حد تک عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ عملی طور پر اب کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔

لیکن سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ایک فورس کا اعلان کیا گیا تھا جس کی پارٹی کی جانب سے رجسٹریشن کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے اس فورس کے حوالے سے بتایا کہ یہ غیر سیاسی فورس ہوگی اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پارٹی کی پالیسی پر عمل کرے گی۔

دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے یکم اپریل کو ایک کیس کی سماعت کے دوران اس فورس کے بنانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کیا گیا ہے۔

جسٹس امین الدین نے ریمارکس میں بتایا ہے کہ کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے فورس نہیں بنائی جا سکتی اور اسی وجہ سے اس فورس کی تشکیل پر جواب طلب کیا گیا ہے۔

رہائی مہم واقعی خاموش ہوگئی؟

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان سے کارکنان نے جو امیدیں باندھی تھیں، وہ ان پر پورا نہیں اتر سکے۔

پشاور میں مقیم صحافی اور پی ٹی آئی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے لحاظ علی کے مطابق سہیل آفریدی کا پہلے جذباتی موقف تھا اور وہ اڈیالہ کے باہر جا کر راتیں بھی گزارتے تھے۔

لحاظ علی کے مطابق عمران خان کی آنکھ کی بینائی کے حوالے سے مظاہرے ہوئے تھے تاہم اب اس سخت موقف میں تبدیلی نظر آ رہی ہے اور ابھی تک سہیل آفریدی کی جانب سے کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ سہیل آفریدی اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل کرکے عمران خان سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ سہیل آفریدی کے دور اقتدار میں ایسا کوئی بڑا جلسہ یا مظاہرہ نہیں دیکھا گیا ہے جو عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ہو۔‘

صحافی و تجزیہ کار طارق وحید سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے تحریک میں وہ جارحیت اور جذبہ اب نظر نہیں آ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ مسلسل احتجاجوں اور مظاہروں سے پی ٹی آئی کے کارکنان بھی مزید تھک گئے اور مایوس بھی ہو گئے۔

طارق وحید نے بتایا: ’دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے پارٹی کو کوئی بھی تحریک بنانے نہیں دیا گیا اور اداروں کی جانب سے بھرپور مزاحمت کی گئی۔‘

اسی طرح طارق وحید نے بتایا کہ ابھی رہائی فورس کے حوالے سے جو بتایا گیا ہے تو یہ بھی ایک علامتی تحریک ہو سکتی ہے تاکہ کارکنان کو مصروف رکھا جائے، اس کا فوکس بھی پشاور میں ہی نظر آ رہا ہے۔

طارق وحید نے بتایا کہ عمران خان کے احتجاج کے بعد ابتدا میں پورے ملک میں چھوٹے بڑے مظاہرے ہوتے تھے، لیکن اب پوری تحریک پشاور یا آس پاس کے چند اضلاع تک محدود ہوگئی ہے۔

دوسری جانب سہیل آفریدی نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال سے احتجاج بھی نہیں کیا، لیکن پھر بھی عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ جلسے کے لیے این او سی کی درخواست دی ہے لیکن اگر اجازت نہیں ملی تو جہاں روکا گیا، وہیں پر احتجاجی جلسہ کریں گے۔

سہیل آفریدی نے بتایا، ’ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور ملک میں جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے صوبائی ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی عدیل اقبال سے موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات خیبر پختونخوا اکرام کھٹانہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روز اول سے عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور کوئی خاموشی اختیار نہیں کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں مختلف احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کے دوران ہمارے ساتھ زیادتیاں کی گئیں اور ہمارے جلسوں میں کارکنان کو قتل کیا گیا، لیکن ہم نے اپنی کوشش جاری رکھی ہے۔

اکرام کھٹانہ کے بقول: ’ہماری تحریک جاری رہے گی اور ایک دن پی ٹی آئی کے مخالفین کو شکست ہوگی۔ سہیل آفریدی کے آنے کے بعد بھی جلسے ہوئے ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ سیاسی جدوجہد سے روکا گیا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *