انڈیا کی پہلی ’میوزیکل سڑک‘ کے افتتاح کو بمشکل دو ہفتے ہی گزرے ہیں لیکن مقامی رہائشی ابھی سے اس سے تنگ آ چکے ہیں۔ یہ سڑک اس طرح بنائی گئی ہے کہ جب گاڑیاں اس پر سے گزرتی ہیں تو ایک مشہور دھن بج اٹھتی ہے۔
سڑک کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ممبئی میں سڑک کا یہ حصہ، جسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ مقررہ رفتار سے گاڑیاں گزرنے پر آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’سلم ڈاگ ملین ایئر‘ کا گانا ’جے ہو‘ بجتا ہے جس سے ان کی روزمرہ زندگی میں خلل پڑتا ہے۔
مغربی ریاست مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دویندر فڑناوس کی جانب سے 11 فروری کو کھولی گئی 500 میٹر طویل یہ سڑک میوزیکل سڑکوں کے حوالے سے انڈیا کی پہلی کوشش ہے۔
انجینیئرز نے سڑک کی سطح پر ایسی لکیریں بنائی ہیں تاکہ گزرنے والی گاڑیاں ارتعاش پیدا کر کے اس دھن کو بجا سکیں، جس سے یہ سڑک مؤثر طریقے سے ایک بڑے موسیقی کے آلے میں تبدیل ہو گئی ہے۔
70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر یہ دھن صاف سنائی دیتی ہے، جب کہ بہت تیز رفتاری سے آواز خراب ہو جاتی ہے، جس سے ڈرائیوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ اپنی رفتار کم کریں۔
حکام اس منصوبے کو جدت، تفریح اور روڈ سیفٹی کا امتزاج قرار دیتے ہیں۔ راستے پر لگے سائن بورڈ ڈرائیوروں کو بتاتے ہیں کہ موسیقی والے اس حصے کا تجربہ کیسے کیا جائے؟ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کار سواروں کو چوکنا رکھنا ہے۔
تاہم، پوش علاقے بریچ کینڈی کے رہائشیوں، جہاں مشہور شخصیات، صنعت کار اور دیگر اہم شخصیات رہائش پذیر ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ ان کی روزمرہ زندگی میں ایک مستقل اور انتہائی خلل ڈالنے والی چیز بن گئی ہے۔ جسے ابتدا میں ایک عارضی یا نئی چیز سمجھا گیا تھا، وہ ان کے الفاظ میں ایک ’وبال‘ بن گیا ہے۔
بریچ کینڈی میں ٹاٹا گارڈنز کے قریب واقع ویبھو اپارٹمنٹس کی ایک رہائشی کویتا چاولہ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ آواز واقعی بہت پریشان کن ہے۔‘
’ہمیں اس کی بالکل ضرورت نہیں۔ اور بھی بہت سے کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس پر پیسہ کیوں ضائع کیا؟‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’کم از کم رہائشیوں کا کچھ تو خیال رکھیں۔ ان لوگوں اور بچوں کے بارے میں سوچیں جن کے امتحانات ہو رہے ہیں، وہ اس شور میں پڑھ نہیں سکتے۔‘
650 سے زائد خاندانوں نے میونسپل حکام سے شکایت کی ہے کہ گانے کا مسلسل بجنا ایک ’پس منظر کا پریشان کن شور‘ بن گیا ہے۔
مقامی شہری ادارے کے سربراہ بھوشن گاگرانی کو لکھے گئے ان کے خط میں کہا گیا ہے کہ ’رہائشی اپنی کھڑکیاں کھلی رکھنے سے قاصر ہیں۔ خاص طور پر معمر شہریوں نے شدید تکلیف کا اظہار کیا ہے۔ یہ آواز گھروں میں ایک مستقل، دبی ہوئی لیکن پریشان کن پس منظر کی آواز کے طور پر داخل ہوتی ہے۔‘
رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ خط مشرقی مضافات کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر اویناش ڈھکنے کو بھی بھیجا ہے۔ لیکن اویناش ڈھکنے نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ انہیں یہ خط نہیں ملا، اور انہوں نے اس بارے میں صرف مقامی اخبارات میں پڑھا ہے۔
بھوشن گاگرانی نے کہا: ’ہمیں ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آتی۔ یہ بمشکل 500 میٹر کا فاصلہ ہے۔ ٹریفک کی حفاظت کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم، ہم ان شکایات کا جائزہ لیں گے۔‘
رہائشیوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ میوزیکل سڑک اپنے طور پر حفاظتی خدشات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کی شکایت میں کہا گیا ہے کہ تیز رفتار سڑک پر آواز کی وجہ سے دھیان بٹنا خطرات کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر کیوں کہ حکام سڑک پر تیز رفتار اور بھاری انجن والی گاڑیوں جیسے فوری مسائل کو حل کرنے کے بجائے نئی چیزوں کو ترجیح دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر ٹریفک کا مسلسل شور پہلے ہی زیادہ سے زیادہ شور کی حد کی خلاف ورزی کر رہا تھا، اور میوزیکل لکیریں متعارف کرائے جانے کے بعد، یہ شور بہت زیادہ پریشان کن ہو گیا ہے جس سے نیند، توجہ اور روزمرہ زندگی کا معمول متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ سمندری ہوا اور قریبی عمارتوں سے آواز ٹکرا کر جس طرح پھیلتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ یہ دھن اتنی زیادہ تیز ہو کر رہائشی علاقوں کے اندر تک پہنچ رہی ہے جس کی منصوبہ سازوں نے شاید توقع بھی نہیں کی تھی۔
ویبھو اپارٹمنٹس کی 22ویں منزل پر رہنے والی ایک اور رہائشی نمرتا سنگھائی کے بقول: ’ہمارے پاس حال ہی میں یہ نئی میوزیکل سڑک بنی ہے، اور میں کہوں گی کہ یہ ایک وبال ہے۔ یہ 24 گھنٹے اور ساتوں دن کا مسئلہ ہے۔ یہ بہت، بہت پریشان کن ہے۔ میرے گھر میں میرے سسر ہیں جو کافی ضعیف ہیں، اور یہ ان کے لیے بہت پریشان کن ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے بیٹے کے 12ویں کے امتحانات ہو رہے ہیں اور وہ سارا دن کھڑکی بند کر کے بیٹھا رہتا ہے، جو صحت کے لیے واقعی زیادہ اچھا نہیں ہے، لیکن ہمارے پاس واقعی کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بہت زیادہ کوفت میں مبتلا کرنے والا اور بہت ہی پریشان کن ہے۔‘
’اسے بند کریں۔ فوراً۔ مکمل طور پر۔ اسے بند کریں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میوزیکل سڑکوں کا آغاز جاپان سے ہوا، جہاں انہیں 2007 میں انجینیئر شیزو شینوڈا نے بنایا تھا۔ اس کے بعد سے یہ ہنگری، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ جیسے ممالک میں نظر آئی ہیں۔ عام طور پر، یہ سڑکیں کم آبادی والے علاقوں میں واقع ہوتی ہیں، جس سے قریبی آبادیوں کو کم سے کم پریشانی ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، ممبئی کی یہ سڑک براہ راست ایک گنجان آباد اور امیر علاقے سے گزرتی ہے۔
موسیقی والا یہ راستہ ممبئی کی کوسٹل روڈ کا حصہ ہے، جو 160 کروڑ ڈالر (118 کروڑ پاؤنڈز) کا ایک منصوبہ ہے جسے زیادہ تر بحیرہ عرب سے حاصل کی گئی زمین پر بنایا گیا ہے اور یہ 2011 میں اپنے آغاز سے ہی متنازع رہا ہے۔
اگرچہ اس نے میرین ڈرائیو اور ورلی کے درمیان سفر کا وقت 45 منٹ سے کم کر کے 10 منٹ کر دیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بنیادی طور پر امیر کار مالکان کو فائدہ ہوتا ہے، جب کہ شہر کی وسیع تر آبادی، جو پرہجوم پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتی ہے، بڑی حد تک اس کے فوائد سے محروم رہتی ہے۔
رہائشیوں نے اپنے خط میں کہا: ’رہائشی بار بار سنگین شہری مسائل اٹھانے سے تیزی سے تھک رہے ہیں، لیکن وہ دیکھتے ہیں کہ توجہ ایسی غیر ضروری چیزوں پر مرکوز ہے جن سے بچا جا سکتا تھا۔‘
محترمہ سنگھائی کی دلیل ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ’پوری جگہ کو سرسبز بنانے‘ یا عوامی سہولیات کو بہتر بنانے پر زیادہ بہتر طریقے سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، کچھ رہائشیوں کو اس شور سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
بریچ کینڈی کے قریب ایک کیفے کے مالک گورو کیسرکر کہتے ہیں: ’میں اسے کوئی درد سر نہیں سمجھتا۔ آواز یہاں تک بالکل نہیں پہنچتی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیوں سوچ رہے ہیں کہ یہ ایک وبال ہے، یا انہیں اپنی کھڑکیاں بند کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔‘
