انڈیا نے پیر کو ملک کو ماؤ نواز شورش سے پاک قرار دے دیا ہے، جس کے ساتھ ہی دہائیوں پرانی بغاوت کو شکست دینے کی طویل مدتی ڈیڈ لائن مکمل ہو گئی ہے۔
وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پارلیمان کو بتایا کہ انڈیا ان باغیوں سے ’پاک‘ ہو چکا ہے جنہیں نکسلیوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شاہ نے پارلیمان کو بتایا کہ ’میں کھلے عام کہہ سکتا ہوں کہ ہم نکسل فری ہو چکے ہیں، یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے،‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک بار جب پورا آپریشن مکمل ہو جائے گا، میں ملک کو بھی آگاہ کر دوں گا۔‘
انڈیا نے گذشتہ دو سالوں میں نکسلائٹ بغاوت کے آخری بچے کھچے عناصر کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی تھی، جس کا نام ہمالیہ کے دامن میں واقع اس گاؤں کے نام پر رکھا گیا تھا جہاں تقریباً چھ دہائیوں قبل ماؤ نوازوں سے متاثرہ اس شورش کا آغاز ہوا تھا۔
یہ بغاوت 2000 کی دہائی کے وسط میں اپنے عروج پر تھی اور ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے پر اس کا کنٹرول تھا جہاں جنگجوؤں کی تعداد 15 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان تھی، لیکن حالیہ برسوں میں یہ ڈرامائی طور پر کمزور ہو گئی تھی۔ زیادہ تر مسلح باغی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے خطے بستر تک محدود تھے، جو گھنے جنگلات اور پہاڑیوں پر مشتمل معدنیات سے مالا مال ایک وسیع علاقہ ہے اور رقبے میں تقریباً نیدرلینڈز کے برابر ہے۔
شاہ نے پارلیمان میں 90 منٹ کی تقریر کے دوران، جس میں شورش کے خاتمے کے لیے سیکورٹی فورسز کی تاریخ اور حکمتِ عملی کی تفصیلات بتائی گئیں۔ شاہ نے مزید کہا کہ ’ماؤ نواز تشدد کرنے والوں اور نکسل ازم کا تشدد پھیلانے والوں کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈین پارلیمان میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں سکیورٹی فورسز نے 364 باغیوں کو مار ڈالا، 1,022 کو گرفتار کیا، اور سینیئر رہنماؤں سمیت مزید 2,337 نے ہتھیار ڈال دیے۔ 2010 سے اب تک شہریوں اور سیکورٹی فورسز کی اموات میں 90 فیصد کمی آئی ہے، اور سالانہ ماؤ نواز حملے 1,900 سے کم ہو کر گذشتہ سال تقریباً 200 رہ گئے ہیں۔
شاہ نے کہا کہ حکومت نے شورش سے متاثرہ ریاستوں میں مقامی پولیس فورسز کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہم آہنگی کو تیز کیا۔ شاہ نے کہا کہ ’ہم نے صرف ہتھیاروں کے بجائے آل ایجنسی اپروچ اپنائی،‘ انہوں نے مزید کہا کہ دو کے علاوہ تمام ماؤ نواز کمانڈر یا تو مارے جا چکے ہیں یا ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ ’وہ بھی جلد ہی ہتھیار ڈال دیں گے۔‘
چھتیس گڑھ کے نائب وزیرِ اعلیٰ وجے شرما نے اس سے قبل اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ریاست باغیوں سے مکمل طور پر پاک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان کا پورا مسلح کیڈر ختم کر دیا گیا ہے۔‘ شرما نے کہا کہ تمام مسلح جنگجو مارے جا چکے ہیں یا ہتھیار ڈال چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اب اس تحریک کا ’کوئی تنظیمی ڈھانچہ باقی نہیں رہا‘۔
ماؤ نوازوں کا کہنا تھا کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں پسماندہ مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، جہاں کان کنی کی کمپنیاں قیمتی وسائل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ 1967 میں چند دیہاتیوں کے اپنے جاگیرداروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے بعد سے اب تک اس تنازع میں 12,000 سے زائد باغی، فوجی اور شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
26 سالہ سابق ماؤ نواز باغی وشنو مدوی نے گوریلوں کے ساتھ سات سال گزارنے کے بعد جنوری میں ہتھیار ڈال دیے تھے۔ مدوی نے پیر کو ایک بحالی کیمپ سے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میرا کمانڈر 2025 میں پولیس آپریشن میں مارا گیا تھا جس میں، میں بمشکل بچ پایا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے تمام اعلیٰ رہنما جا چکے تھے، پولیس ہر طرف ہمارے پیچھے تھی—اس لیے اپنے آپ کو حوالے کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔‘
