|
یران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 35 واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
دن 11 بج کر 40 منٹ
ایران کا امریکی ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے جدید ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق وسطی ایران میں اس طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور یہ ’طیارہ گر کر تباہ‘ ہو گیا۔
امریکہ کی سینٹرل کمان نے ایک بیان میں کہا کہ پاسدارن انقلاب کی طرف سے دشمن کا ایک جنگی طیارہ گرانے کا دعویٰ ’جھوٹا‘ ہے۔
تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایف 35 کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ایک ایف 35 طیارہ جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ایران کے اوپر سے گزرتے ہوئے کسی مسئلے کا شکار ہو گیا اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
صبح 9 بج کر 05 منٹ
ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی فوج نے ابھی تک ایران میں باقی رہ جانے والی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگلا ہدف پل ہوں گے، پھر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس۔‘
اپنی پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت جانتی ہے کہ کیا کرنا ہے، اور اسے فوراً کرنا ہو گا۔
صبح 7 بج کر 45 منٹ
سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ’دفاعی‘ طاقت کے استعمال پر ووٹنگ آج
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعہ تین اپریل کو بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ کرائے گی جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ایرانی حملوں سے بچانے کے لیے ’دفاعی‘ طاقت کے استعمال کی اجازت دینا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے اہم سمندری راستے پر ایسی سخت گرفت قائم کر لی ہے کہ وہاں سے جہازوں کا گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس وجہ سے تیل اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا، اور دنیا کی معیشت میں بے چینی اور ہلچل مچ گئی۔
اقوام متحدہ میں بحرین کے سفیر جمال الرویعی نے اس ہفتے کہا، ’ہم اپنے خطے اور دنیا کو متاثر کرنے والی معاشی دہشت گردی کو قبول نہیں کر سکتے، پوری دنیا ان حالات سے متاثر ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ قرارداد کا متن جو کئی ترامیم کے مراحل سے گزرا ہے اور جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے، ’ایک نازک موڑ پر سامنے آیا ہے۔‘
صبح 7 بج کر 30 منٹ
ایران کے مشرق وسطیٰ میں امریکہ سے جڑی تنصیبات اور شہری ڈھانچے پر حملے
ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ سے جڑی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا اور ایک ماہ سے جاری جنگ میں جمعے کو بھی تھمنے کے بہت کم آثار دکھائی دیے ہیں۔
بڑھتے ہوئے حملوں کا رخ اب معاشی اور صنعتی مقامات کی طرف ہو گیا ہے، جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی زیادہ متاثر ہو سکتی ہے اور جنگ کے اثرات میدان جنگ سے باہر بھی مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
Striking civilian structures, including unfinished bridges, will not compel Iranians to surrender.
It only conveys the defeat and moral collapse of an enemy in disarray. Every bridge and building will be built back stronger. What will never recover: damage to America’s standing. pic.twitter.com/872zuE36qD
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 2, 2026
ایران نے کہا ہے کہ اس کے تازہ حملوں کی لہر میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ اس کی صنعتی تنصیبات پر پہلے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب تھا۔
ایران کے مطابق ان اہداف میں ’ابو ظبی میں امریکی سٹیل صنعتیں، بحرین میں امریکی ایلومینیم صنعتیں، اور صہیونی حکومت کی رفائیل اسلحہ فیکٹریاں‘ شامل تھیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیلی فوج نے جمعے کو خبردار کیا کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کو گرانے کے لیے اس کا فضائی دفاعی نظام کام کر رہا ہے۔
اس سے پہلے تہران کے علاقے میں نئے دھماکوں کی اطلاعات آئی تھیں، جب کہ ایرانی سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں شمالی شہر کرج میں ایک پل کو دو بار نشانہ بنایا گیا، پہلی بار حملے میں عام شہری متاثر ہوئے اور دوسری بار اس وقت حملہ کیا گیا جب امدادی ٹیمیں وہاں پہنچ چکی تھیں۔ پل پر حملے میں ہونے والی اموات کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے بدھ کو ایران کو ’پتھر کے دور میں واپس بھیجنے‘ کی دھمکی دی تھی، اپنی سخت زبان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ پُل ’گر کر تباہ ہو گیا‘ اور یہ عزم بھی کیا کہ ’ابھی بہت کچھ اور ہونا ہے۔‘
ادھر یمن کے حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل پر چوتھا حملہ کیا ہے اور تل ابیب کے علاقے میں اہداف پر ’بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ‘ کی ہے۔
صبح 7 بج کر 15 منٹ
امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ جنرل رینڈی اے جارج فوری طور پر امریکی فوج کے 41ویں چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے سب سے بڑے افسر اور دو دوسرے جرنیلوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
پینٹاگون نے یہ بات جمعرات کو بتائی، لیکن ان افسروں کی رخصتی کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ ایران کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
پینٹاگون کے اعلیٰ ترجمان شان پارنل نے کہا کہ جنرل رینڈی جارج فوری طور پر آرمی کے 41ویں چیف آف اسٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جنرل جارج اگست 2023 سے، جو بائیڈن کے دور میں، اس عہدے پر کام کر رہے تھے۔ عام طور پر اس عہدے کی مدت چار سال ہوتی ہے۔
پینٹاگون کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہیگسیتھ نے آرمی کے جنرل ڈیوڈ ہون اور میجر جنرل ولیم گرین کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ ان دونوں افسروں کو عہدے سے الگ کرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔
