امریکی حملے: ایک 20 سالہ طالب علم اے آئی کی جنگ کا شکار کیسے ہوا؟

کنسٹریکشن کے شعبے میں ڈپلومہ کرنے والے 20 سالہ طالب علم عبدالرحمٰن الراوی شمال مشرقی عراق کے شہر القائم کی ایک خاموش گلی میں اپنے گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ انہوں نے شور کی آواز سنی۔

چند سیکنڈز میں ایک امریکی میزائل دھماکے کے نتیجے میں وہ جان سے چلے گئے، جو ان کے قریب کھڑی ایک گاڑی کو تباہ کرنے کے لیے ہوا تھا۔

ان کے بھائی انمار نے ایئر وارس اور دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے کی گئی مشترکہ تحقیق کے سلسلے میں تفصیل سے بتایا کہ ان کے بھائی کی موت کس طرح ہوئی۔ بقول انمار: ’ہمیں اپنے بھائی کی تمام باقیات جمع کرنے میں دو دن لگے۔‘

عبدالرحمٰن ان 85 مربوط حملوں میں سے ایک کا شکار ہوئے، جو امریکی افواج نے فروری 2024 کی شب عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا اور حکومت سے وابستہ فورسز کے خلاف کیے تھے۔

اس آپریشن کو کامیاب قرار دیا گیا اور ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی استعمال کر کے بالکل درست نشانہ لگایا۔

لیکن یہ دعویٰ جلد ہی کمزور پڑ گیا کیونکہ تین بے گناہ شہریوں کی بھی اموات سامنے آئیں۔

عبدالرحمٰن کی موت کی تصدیق ہو گئی اور امریکی حکام کی طرف سے ایک تعزیتی خط بھیجا گیا، جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ غلطی سے ہوا۔

تاہم واقعے کے صحیح مراحل اور فوجی آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر، خاص طور پر ایران میں جاری امریکی اور اسرائیلی آپریشنز میں، خاص طور پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

دی انڈپینڈنٹ اور تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے ایئر وارس کی تحقیق کے مطابق عبدالرحمٰن اے آئی کی مدد سے ہونے والے فضائی حملے کے پہلے تصدیق شدہ شہری شکار ہیں۔

لیکن جب اس بارے میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)  سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ’یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘ کہ عبدالرحمٰن کی موت کا باعث بننے والے حملے میں اے آئی کی نشانہ بنانے کی معاونت استعمال کی گئی تھی یا نہیں۔ ایک ماہر کے مطابق اس بات سے ’تمام ریڈ فلیگز کے حوالے سے خطرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔‘

سینٹ کام نے کہا: ’ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ حملہ ان 85 میں سے ایک تھا یا نہیں۔۔۔تجزیہ کاروں کی جانچ کے عمل یا Collateral Damage Estimate Process میں کوئی غلطی نہیں پائی گئی، CJTF-OIR نے جنگ کے تمام قوانین پر عمل کیا۔‘

ماہرین نے دی انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں سینٹ کام کے اس بیان پر انتباہ جاری کیا ہے۔

جو یٹریکٹ یونیورسٹی میں اے آئی جنگی ٹیکنالوجی کی ماہر جیسیکا ڈورسی کہتی ہیں: ’یہ کہنا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ آیا یہ حملہ ان 85 اے آئی کی مدد سے کیے گئے حملوں میں سے ایک تھا یا نہیں، کا مطلب ہے کہ وہ اہداف کے جائزے کا ریکارڈ نہیں رکھ رہے۔‘

’وہ اس معلومات اور انٹیلی جنس کے ماخذ تک واپس نہیں جا سکتے جس کی بنیاد پر اس ہدف کو حملے کے لیے منتخب کیا گیا۔‘

لندن سکول آف اکنامکس کی ماہر ڈاکٹر ایلک شوارز کہتی ہیں کہ اے آئی کی معاونت سے کیے گئے حملوں کی رفتار اور دائرہ کار کے باعث ’انسانی فیصلہ سازی پیچھے رہ جاتی ہے۔‘

اے آئی کی مدد سے کیے گئے حملے میں شہری کی موت کیسے ہوئی؟

القائم، جو شام کی سرحد کے قریب ہے اور بغداد سے تقریباً 400 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، پر یہ حملہ شمالی اردن میں امریکی اڈے پر حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، جس میں تین فوجی مارے گئے تھے۔

امریکی حملوں کے نتیجے میں القائم میں کئی عمارتیں تباہ ہوئیں، تقریباً 15 افراد زخمی ہوئے اور پاپولر موبیلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے طبی عملے کے تین سے پانچ افراد بھی جان سے گئے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہیں۔

عبدالرحمٰن کی موت نے ان کے خاندان کو توڑ ڈالا۔ ایک ہسپتال میں بطور نرس کام کرنے والے انمار کہتے ہیں: ’میرے والد شدید افسردہ ہیں، میری والدہ کو دل کا دورہ پڑا اور ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو گا۔ ہر بار جب انہیں اپنے بیٹے کی یاد آتی ہے، وہ رو پڑتی ہیں۔‘

سینٹ کام نے کہا کہ 3-2 فروری 2024 کے حملوں میں، جس کی عراق کی حکومت نے بھی مذمت کی تھی، نشانہ بنائے گئے مراکز میں کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشنز سینٹر، راکٹ لانچرز اور سپلائی چین کی سہولیات شامل تھیں۔

بعدازاں اسی ماہ سینٹ کام کی سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر شائلر مور نے بلومبرگ کو بتایا کہ ان اہداف کی شناخت پروجیکٹ میون (Project Maven) کے مشین لرننگ الگورتھمز کی مدد سے کی گئی۔

یہ امریکی فوج کا پہلا ایسا اعلان تھا کہ کسی انفرادی حملے میں اے آئی استعمال ہوا۔

پروجیکٹ میون، جو پینٹاگون نے تیار کیا اور نیشنل جیو سپیشل انٹیلی جنس ایجنسی (NGA) نے اپنایا، سیٹلائٹ امیجز اور ریڈار کی مدد سے ہدف کی شناخت اور حرکت کو ٹریک کرتا ہے۔

شائلر مور نے کہا: ’ہم خطرات کی شناخت کے لیے کمپیوٹر وژن استعمال کر رہے ہیں۔ پچھلے 60 سے 90 دنوں میں ہمارے پاس نشانہ لگانے کے مزید مواقع آئے ہیں۔‘

بعد میں 2024 کے آخر میں ایک شہری نقصان کی رپورٹ میں امریکی فوج نے پہلی بار تسلیم کیا کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر دو شہریوں کی اموات ہوئیں۔

اگلے سال جولائی میں، محکمہ دفاع نے تصدیق کی کہ ایک بالغ مرد کی موت ہوئی اور ان کے خاندان سے تعزیت کی گئی۔

ایئروارس کو دستیاب خاندان سے حاصل کیے گئے امریکی فضائیہ کے جنرل کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا: ’ہم آپ کے عزیز عبدالرحمٰن خالد الراوی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور گہری ہمدردی پیش کرتے ہیں۔‘

انمار نے کہا کہ اس دو سطری خط نے ان کے خاندان کو ناراض کر دیا، کیونکہ امریکی فوج نے موت کی ذمہ داری واضح طور پر قبول نہیں کی۔ ’ہمیں ان سے کچھ نہیں ملا، سوائے تکلیف کے۔‘

اور اس نے پروجیکٹ میون کے حوالے سے مزید سوالات کو بھی جنم دیا۔

پروجیکٹ میون اور مستقبل کی جنگ

پروجیکٹ میون 2017 میں شروع کیا گیا۔ یہ مشین لرننگ کو فوجی نظام میں اپنانے کا سب سے بڑا امریکی منصوبہ ہے اور یہ اے آئی کے ذریعے انسانی فیصلہ سازی پر اثر کے حوالے سے سب سے بڑی تشویش پیدا کرتا ہے۔

ترقی یافتہ فوجیں اے آئی  کو خود ساختہ ’کِل چین‘ (kill chain) کے تمام مراحل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ نشانہ لگانے کی رفتار بڑھائی جا سکے۔

پروجکٹ میون کی درستگی مختلف مقامات پر کم ہو سکتی ہے اور بعض حالات میں یہ 30 فیصد سے بھی کم ہو جاتی ہے۔

جیسیکا ڈورسی کہتی ہیں کہ ’خودکار تعصب‘ کا خطرہ ہے، یعنی انسان وقت کے ساتھ کمپیوٹر کے نتائج پر بغیر تنقیدی جائزے کے اعتماد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

جتنا زیادہ فوجیں اے آئی پر انحصار کریں گی، اتنا ہی انسانی ذمہ داری مشینز پر منتقل ہو جائے گی: ’ہم اپنی مہارت کھو رہے ہیں۔ کمانڈرز میدانِ جنگ میں اپنے کام میں کم ماہر ہو رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر شوارز کہتی ہیں کہ اے آئی کی مدد سے کیے گؕئے حملے ’روایتی جنگ اور قتل کے تصور کو بدل رہے ہیں۔‘

’انسانوں کا رجحان یہ ہوتا ہے کہ وہ کمپیوٹر کے نتائج سے کیے گئے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھاتے۔‘

امریکہ میں فوج کی جانب سے اے آئی کا استعمال اے آئی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) اور محکمہ دفاع کے درمیان ایک اہم تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔

26 فروری کو اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اپنے اے آئی ٹولز جیسے کلاڈ  (Claude)کے استعمال سے متعلق محکمہ دفاع کے مطالبات کو مسترد کر دیا، جو گھریلو نگرانی اور خودکار ہتھیاروں کے لیے استعمال ہو سکتے تھے۔

6 مارچ کو اوپن اے آئی میں روبوٹکس انیشی ایٹو کے شعبے کے سربراہ کیٹلن کالینووسکی نے اس وقت استعفی دے دیا، جب اوپن اے آئی نےمحکمہ دفاع کے ساتھ معاہدہ کیا کہ اس کی ٹیکنالوجی خفیہ ماحول میں استعمال ہو سکتی ہے، جس سے ’بغیر عدالتی نگرانی کے امریکیوں کی نگرانی اور انسانی اجازت کے بغیر مہلک خودمختاری کا خطرہ‘ پیدا ہو سکتا ہے۔

اینتھروپک نے اس ہفتے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی، جس میں اسے ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا گیا تھا۔

28 فروری کے بعد، ایران میں وسیع پیمانے پر اے آئی کی مدد سے حملے کیے گئے، جس میں ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق 1200 سے زائد شہریوں کی اموات ہوئیں، جن میں 194 بچے بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پالانٹر کے میون سمارٹ سسٹم (ایم ایس ایس) کو اینتھروپک کےکلاڈ  اے آئی کے ساتھ جوڑا گیا، اور یہ دونوں امریکی فوج نے فعال جنگی مشنز میں استعمال کیے۔ ایم ایس ایس ایک وسیع تر فیصلہ سازی معاون نظام ہے جو ہدف بنانے میں معاونت دینے والے اے آئی کے مختلف نظاموں کو یکجا کرتا ہے، جیسے کہاین جی اے کا پروجیکٹ میون۔
یہ دونوں نظام امریکی فوج کے فعال جنگی مشنز میں استعمال کیے گئے ہیں۔

عبدالرحمٰن کی موت میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حملے کا فیصلہ کس حد تک اے آئی نے کیا اور جس نے حملہ کیا اس کو ہدف کی درستگی پر کتنا اعتماد دیا۔

لیکن انمار، جن کے خاندان کو امریکی فوج کی طرف سے کوئی معاوضہ نہیں ملا، کے لیے ماضی کی کسی بھی غلطی کا ادراک ان کے چھوٹے بھائی کو واپس نہیں لا سکتا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *