امریکی حمایت سے ایران کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں: عراقی کرد

تازہ ترین

  • ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
  • سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو کی وجہ سے ایرانی جہاز ڈوب گیا، سینکڑوں اموات

جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال —  چوتھے دن کا احوال  —  پانچویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


صبح 8 بجے: امریکی حمایت سے ایران کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں: ایران مخالف کرد 

عراق کے شمالی حصے میں قائم ایران مخالف کرد گروہ کے حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے اندر ممکنہ سرحد پار فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں، اور امریکی حکام نے عراقی کردوں سے کہا ہے کہ وہ ان کی حمایت کریں۔

اے پی کے مطابق کرد گروہوں کو بکھری ہوئی ایرانی اپوزیشن کا سب سے منظم حصہ سمجھا جاتا ہے اور خیال ہے کہ ان کے پاس ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں۔ اگر وہ جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ تہران میں مشکلات کا شکار حکام کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے اور اس سے عراق کے اس تنازعے میں شامل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں قائم کردستان آزادی پارٹی (پی اے کے) کے ایک عہدیدار خلیل ندیری نے بدھ کو کہا کہ ان کی کچھ فورسز صوبہ سلیمانیہ میں ایرانی سرحد کے قریب علاقوں میں منتقل ہو چکی ہیں اور تیار حالت میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرد اپوزیشن گروہوں کے رہنماؤں سے ممکنہ کارروائی کے حوالے سے امریکی حکام نے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے جب بدھ کو رپورٹرز نے یہ سوال کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ ایرانی کرد گروہوں کو ہتھیار دینے پر غور کر رہی ہے، تو انہوں نے کہا تھا: ’ہمارے مقاصد کسی خاص فورس کی حمایت یا اسے مسلح کرنے پر مبنی نہیں ہیں۔ دوسرے فریق کیا کر رہے ہیں، اس سے ہم آگاہ ہیں، لیکن ہمارے مقاصد اس کے گرد نہیں گھومتے۔‘

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے پہلے، جن سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ شروع ہوئی، پی اے کے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تہران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے جواب میں نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب پر حملے کیے ہیں۔ تاہم گروہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ انہوں نے عراق سے ایران کے اندر کوئی فورس نہیں بھیجی۔

اے پی کے مطابق اگر ایرانی اور عراقی کرد گروہ اس جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ اس تنازعے میں کسی بڑی زمینی فوج کی پہلی شمولیت ہوگی۔ کرد جنگجو پہلے بھی شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں لڑائی کا تجربہ رکھتے ہیں۔

ایک اور ایرانی کرد گروہ کوملہ کے ایک عہدیدار نے نے سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو کہا کہ ان کی فورسز ایک سے دس دن کے اندر سرحد عبور کرنے کے لیے تیار ہیں اور ’موزوں حالات کا انتظار کر رہی ہیں۔‘

ایران میں کردوں کی شکایات اور بغاوتوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جو موجودہ اسلامی جمہوریہ اور اس سے پہلے کی بادشاہت دونوں کے خلاف رہی ہیں۔ شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں کردوں کو  دیوار سے لگایا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں بعض اوقات بغاوتیں بھی ہوئیں۔

سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی مذہبی حکومت نے بھی کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان لڑائیوں کے دوران ایرانی افواج نے کرد قصبوں اور دیہات کو تباہ کیا اور چند ماہ میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

اگرچہ کرد گروہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کی خواہش میں ایک دوسرے سے متفق ہیں، لیکن ان کے دیگر اپوزیشن گروہوں سے اختلافات بھی رہے ہیں، خاص طور پر سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے دھڑے سے، جنہوں نے کردوں پر ایران کو تقسیم کرنے کے ارادے کا الزام لگایا ہے۔

عراقی کرد جنگ میں شامل ہونے پر ہچکچاہٹ کا شکار

ممکنہ کارروائی نے عراق کے کرد خطے کی قیادت کو ایک نازک صورت حال میں ڈال دیا ہے۔

تین عراقی کرد عہدیداروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اتوار کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود بارزانی اور بافل طالبانی کے درمیان فون پر بات ہوئی۔ یہ دونوں بالترتیب کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ ہیں۔ گفتگو میں ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک عہدیدار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی کردوں سے کہا کہ وہ ایران میں کارروائیوں کے دوران ایرانی کرد گروہوں کی فوجی مدد کریں اور سرحد کھول دیں تاکہ وہ باآسانی آ جا سکیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے کرد رہنماؤں سے شمالی عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے کے حوالے سے بات کی تھی، لیکن کسی مخصوص منصوبے پر اتفاق کی تردید کی۔

عراقی کرد عہدیدار کے مطابق کرد قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے تو ایران سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اس کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی ایک لہر دیکھی گئی ہے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈے، اربیل میں امریکی قونصل خانہ اور کرد گروہوں کے اڈے رہے ہیں۔

اگرچہ زیادہ تر حملے روک لیے گئے، لیکن شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا اور سکیورٹی خدشات کے باعث ایک اہم گیس فیلڈ کی بندش کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

اپنے بیان میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے تصدیق کی کہ بافل طالبانی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی، جنہوں نے ’جنگ میں امریکہ کے مقاصد کے بارے میں وضاحت اور وژن فراہم کیا۔‘ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کا خیال ہے کہ بہترین حل مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔

عراق کی کرد علاقائی حکومت اور مسعود بارزانی کے ترجمانوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

عراق کی سرحد بند کرنے کی کوشش

شمالی عراق میں مسلح ایرانی کرد گروہوں کی موجودگی بغداد کی مرکزی حکومت اور تہران کے درمیان کشیدگی کا باعث رہی ہے۔

سن 2023 میں عراق نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ان گروہوں کو غیر مسلح کر کے سرحدی علاقوں سے ہٹا کر بغداد کی جانب سے مقرر کردہ کیمپوں میں منتقل کیا جانا تھا۔

اگرچہ ان کے فوجی اڈے بند کر دیے گئے اور عراق کے اندر ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی، لیکن گروہوں نے اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے۔

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے فون پر درخواست کی کہ عراق دونوں ممالک کی سرحد پر کسی بھی اپوزیشن گروہ کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ عراق اس بات کا پابند ہے کہ ’کسی بھی گروہ کو ایرانی سرحد عبور کرنے یا عراقی سرزمین سے دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘ اور بتایا کہ سرحد پر مزید سکیورٹی دستے بھیجے جا چکے ہیں۔

اے پی کے مطابق ایران کے ممکنہ ردعمل کے علاوہ، اگر عراقی کرد سرحد پار حملوں میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے، جو حالیہ دنوں میں اربیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہیں۔


صبح 7 بجے: کویت کے قریب ٹینکر پر دھماکہ، عملہ محفوظ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

برطانیہ کی یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے جمعرات کو کہا ہے کہکویت کے ساحل پر لنگر انداز ایک ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ اس کے بائیں حصے پر ایک بڑا دھماکا دیکھا گیا اور جہاز میں پانی داخل ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دھماکے کے بعد ایک چھوٹی کشتی کو علاقے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ یہ دھماکا خلیج میں کویت کی مبارک الکبیر بندرگاہ سے جنوب مشرق میں 56 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔

ادارے نے ایک ایڈوائزری نوٹ میں کہا: ’کارگو ٹینک سے تیل پانی میں آ رہا ہے جس کے کچھ ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں، جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے، کسی آتشزدگی کی اطلاع نہیں ہے اور عملہ محفوظ ہے۔‘

بعد ازاں کویت کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ملک کی علاقائی حدود سے باہر پیش آیا، جو مبارک الکبیر بندرگاہ سے کم از کم 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔


صبح 6 بج کر 30 منٹ: امریکی حملے کا شکار ایرانی جہاز سے 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں: سری لنکن بحریہ

سری لنکا کی بحریہ نے بدھ کو بتایا کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو کی وجہ سے ڈوبنے والے ایک ایرانی جنگی جہاز میں سوار 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 32 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ بحرِ ہند میں ڈوبنے والا ایرانی جہاز اسلامی جمہوریہ کا ’قیمتی جنگی جہاز‘ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ چند مواقع میں سے ایک ہے جب کسی آبدوز نے کسی جہاز کو ڈبویا ہے۔

’آئی آر آئی ایس دینا‘  نامی جہاز کی تباہی اس امریکی۔اسرائیلی فوجی کارروائی کو ظاہر کرتی ہے جو ایران کے خلاف اس کی سرحدوں سے باہر تک پھیل رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ جنگ کے اہم مقاصد میں سے ایک ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک بریفنگ کے دوران کہا: ’ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا جو سمجھ رہا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’لیکن اسے ایک ٹارپیڈو نے ڈبو دیا۔‘

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ جب سری لنکا کی بحریہ کو آئی آر آئی ایس دینا سے مدد کا سگنل ملا، جس پر 180 افراد سوار تھے، تو اس نے امدادی کارروائی کے لیے جہاز اور طیارے روانہ کیے۔

تاہم بحریہ کے ترجمان کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے کہا کہ جب سری لنکا کی بحریہ موقع پر پہنچی تو جہاز کا کوئی نشان نہیں تھا، ’صرف تیل کے کچھ دھبے اور لائف رافٹس نظر آ رہے تھے۔ ہم نے لوگوں کو پانی میں تیرتے ہوئے پایا۔‘

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں ٹارپیڈو حملے کا لمحہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں ایرانی جہاز کو زیرِ آب دھماکے سے نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے وہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے اور پانی کا ایک بڑا فوارہ ہوا میں بلند ہو جاتا ہے۔

بدھیکا سمپتھ کے مطابق بچائے گئے 32 افراد کو سری لنکا کے جنوبی ساحل پر واقع شہر گال کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نکالی گئی لاشوں کو بھی خشکی پر لایا جا رہا ہے۔

گال کے نیشنل ہسپتال میں ایرانی ملاحوں کی لاشیں ٹرکوں میں پہنچائی جا رہی تھیں اور انہیں ایک عارضی مردہ خانے میں رکھا جا رہا تھا۔ ہسپتال کے اطراف سری لنکن پولیس اور بحریہ کے اہلکار تعینات تھے۔

وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر انیل جَسنگھے نے کہا کہ بچائے گئے افراد میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے، سات کو ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ دیگر کو معمولی زخمی ہونے پر علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

آئی آر آئی ایس دینا، جو ایران کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک تھا، گہرے سمندری پانیوں میں گشت کرتا تھا اور اس پر بھاری توپیں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جہاز شکن میزائل اور ٹارپیڈوز نصب تھے۔ اس پر ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود تھا۔

فروری 2023 میں امریکی محکمہ خزانہ نے اس جہاز پر پابندیاں عائد کی تھیں، ساتھ ہی ایک ایرانی ڈرون بنانے والی کمپنی کے آٹھ اعلیٰ عہدیداروں پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں جو یوکرین میں شہری اہداف کے خلاف استعمال کے لیے روس کو ہتھیار فراہم کرتی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق اس جنگ کے دوران اب تک کم از کم 17 ایرانی بحری جہاز ڈبوئے جا چکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *