امریکہ کی اسرائیل کو 15 کروڑ ڈالر سے زائد کے گولہ بارود کی فروخت کی منظوری

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ آٹھویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔


جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال —  چوتھے دن کا احوال  —  پانچویں دن کا احوال —  چھٹے دن کا احوال  —  ساتویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


صبح 9 بجے منٹ: امریکہ کی اسرائیل کو 15 کروڑ ڈالر سے زائد کے گولہ بارود کی فروخت کی منظوری

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو بتایا کہ اس نے اسرائیل کو 15.18 کروڑ ڈالر مالیت کے گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان میں معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری کانگریس کو جائزے کے لیے پیش کیے بغیر کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کیا کہ ایک ہنگامی صورت حال موجود ہے جس کے لیے اسرائیل کو فوری طور پر گولہ بارود کی فروخت درکار ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے 12,000 بی ایل یو-110 اے/بی عام مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے 1,000 پاؤنڈ کے بموں کی درخواست کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارک روبیو نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ فروخت ’امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات میں‘ ہے۔

پارلیمنٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے گریگوری میکس نے کہا کہ کانگریس کے جائزے کو نظرانداز کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کرنے کا مارک روبیو کا فیصلہ ایران پر جنگ کے لیے تیاری کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں  نے ایک بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے بارہا اصرار کیا ہے کہ وہ اس جنگ کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ کانگریس کو نظرانداز کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات کے استعمال میں جلد بازی ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی اپنی پیدا کردہ ہنگامی صورت حال ہے۔‘


صبح 8 بج کر 15 منٹ: دبئی اور منامہ میں دھماکے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہفتہ کی صبح دھماکے سنے گئے۔

دبئی میں دو اور منامہ میں ایک دھماکہ سنا گیا، جہاں خطرے کا سائرن بھی بجا۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے ایکس پر لکھا کہ ’شہریوں اور رہائشیوں سے پرسکون رہنے اور قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کی درخواست ہے۔‘


صبح 8 بجے: عراق میں غیر ملکی تیل کی ایک تنصیب پر ڈرون حملہ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی عراق میں غیر ملکی توانائی کمپنیوں کی تیل کی ایک تنصیب کو جمعے کو دوسری بار ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

صوبہ بصرہ کے ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’برجیسیا آئل کمپلیکس کے اوپر دو ڈرونز کو مار گرایا گیا، لیکن تیسرا بچ نکلا‘ اور اس نے اس جگہ کو نشانہ بنایا۔

ایک اور سکیورٹی ذریعے نے ڈرون حملے کی تصدیق کی۔


صبح 7 بج کر 30 منٹ: اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری

اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا کہ اس نے تہران میں اہداف پر ’حملوں کا ایک وسیع سلسلہ‘ شروع کر دیا ہے، جب کہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے دارالحکومت کے مغربی حصے میں ایک دھماکے کی خبر دی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں دھماکے سنے جانے پر، اس نے اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کی ایک اور کھیپ کا پتہ لگایا ہے۔

اے ایف پی کے صحافی نے ہفتے کو بتایا کہ انہوں نے سائرن بجنے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے کی آواز سنی۔

اسرائیلی فوج نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کرنے سے قبل بتایا تھا کہ فضائی دفاعی نظام ’خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔


صبح 7 بجے: ایران کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے: اسرائیل

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر جنگ کے آغاز سے اب تک ’کئی بار‘ کلسٹر گولہ بارود فائر کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس سے مراد وہ بم ہیں جو فضا میں پھٹ کر چھوٹے بم بکھیر دیتے ہیں۔

ایران اور اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جو کلسٹر بموں کے استعمال، منتقلی، تیاری اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ یہ بم طویل عرصے تک جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے، کیوں کہ ان میں سے کچھ زمین پر گرتے ہی نہیں پھٹتے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *