امریکہ: ویزے کے لیے ’جعلی ڈکیٹیوں‘ میں ملوث 10 انڈین شہریوں پر فرد جرم عائد

امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کی وفاقی گرینڈ جیوری نے ویزا فراڈ کی سازش میں ملوث 10 انڈین شہریوں پر فردِ جرم عائد کر دی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی مسلح ڈکیتیاں کروا کر خود کو جرائم کا شکار ظاہر کیا تاکہ امیگریشن فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

امریکی اٹارنی آفس کی جانب سے نو اپریل کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق مقدمے میں امریکی استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ افراد اس منصوبے کا حصہ تھے، جس کے تحت سہولت کاروں نے دکانوں اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں ’سٹیجڈ روبریز‘ یعنی پہلے سے طے شدہ ڈکیتیاں کروائیں، تاکہ وہاں موجود عملہ بعد میں خود کو پرتشدد جرائم کا متاثرہ ظاہر کرتے ہوئے ’یو ویزا‘ کے لیے درخواست دے سکے۔

یو ویزا امریکہ میں ان افراد کو دیا جاتا ہے جو کسی سنگین جرم کا شکار ہوئے ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔

فرد جرم میں نامزد افراد میں جیتندرکمار پٹیل، مہیش کمار پٹیل، سنجے کمار پٹیل، دیپیکابین پٹیل، رمیش بھائی پٹیل، امیتابہین پٹیل، رونک کمار پٹیل، سنگیتابین پٹیل، منکیش پٹیل اور سونل پٹیل شامل ہیں، جن میں سے بیشتر غیرقانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھے۔

حکام کے مطابق ان میں سے دو افراد کو امیگریشن حکام کی تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ دیگر کو پہلے ہی مشروط طور پر رہا کیا جا چکا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک مارچ 2023 میں سرگرم ہوا، جب مرکزی ملزم رام بھائی پٹیل نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کم از کم چھ دکانوں میں جعلی ڈکیتیوں کا منصوبہ بنایا اور انہیں عملی جامہ پہنایا۔

ان وارداتوں کے دوران ایک شخص مبینہ طور پر اسلحہ نما چیز دکھا کر عملے کو دھمکاتا، کیش رجسٹر سے رقم لے کر فرار ہو جاتا جبکہ پوری کارروائی سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ کی جاتی۔

بعد ازاں دکان کا عملہ چند منٹ انتظار کے بعد پولیس کو اطلاع دیتا اور خود کو متاثرہ ظاہر کرتا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس عملے نے اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے رقم بھی ادا کی جبکہ دکان مالکان کو ان کی جگہ استعمال کرنے کے عوض ادائیگی کی جاتی تھی۔

اس کیس کا مرکزی کردار رام بھائی پٹیل اور ان کے ساتھی، جن میں مبینہ ڈکیت اور فرار میں مدد دینے والا ڈرائیور شامل تھے، مئی 2025 میں پہلے ہی مجرم قرار دیے جا چکے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ویزا فراڈ کی سازش کے جرم میں ملوث افراد کو پانچ سال تک قید، تین سال نگرانی اور ڈھائی لاکھ ڈالر تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔

استغاثہ نے واضح کیا ہے کہ فردِ جرم میں شامل تمام الزامات ابتدائی نوعیت کے ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *