امریکہ میں مقیم سنگھ رہنما کو قتل کروانے کی سازش کی: انڈین شہری کا اعتراف

انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے جمعے اعتراف کیا کہ انہوں نے نیویارک سٹی میں مقیم ممتاز سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کے لیے اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی سازش کی۔ 

نکھل گپتا کے اس اعتراف کے بعد ایک اعلیٰ امریکی وفاقی پراسیکیوٹر نے بیرون ملک مقیم کسی بھی شخص کو امریکہ میں امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے خلاف خبردار کیا۔

امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں نکھل گپتا کی جانب سے سازش کے تین الزامات میں جرم قبول کرنے کے بعد ایک جاری کردہ بیان میں کہا: ’مذموم غیر ملکی عناصر کے لیے ہمارا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ امریکہ اور ہمارے لوگوں سے دور رہیں۔‘

نیویارک کے ایف بی آئی آفس کے سربراہ جیمز سی بارنیکل جونیئر نے کہا کہ نکھل گپتا نے انڈین حکومت کے ایک اہلکار کے ساتھ رابطہ کیا، جس نے انہیں قتل کرنے کی ہدایت کی، اور ’انڈین حکومت کے ایک کھلے ناقد کو خاموش کروانے کے لیے ایک غیر ملکی دشمن کی غیر قانونی کوشش میں سہولت فراہم کی۔‘

54 سالہ نکھل گپتا نے مجسٹریٹ جج سارہ نیٹ برن کو بتایا کہ وہ انڈیا میں تھے جب انہوں نے 2023 میں اس شخص کو آن لائن 15 ہزار ڈالر ادا کیے، جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ تاہم، نکھل گپتا انجانے میں قانون نافذ کرنے والے ایک خفیہ افسر سے بات کر رہے تھے جنہوں نے خود کو اجرتی قاتل ظاہر کیا۔

جرم کا اعتراف ایک کمرہ عدالت میں کیا گیا جو امریکہ اور کینیڈا بھر سے آئے ہوئے تقریباً دو درجن سکھوں سے بھرا ہوا تھا جو انڈیا کے شمال مغرب میں واقع ریاست پنجاب کی آزادی حاصل کرنے کی گرپتونت سنگھ پنوں کی خواہش میں شریک ہیں، جسے وہ کسی دن ڈیموکریٹک رپبلک آف خالصتان کا نام دینے کی امید رکھتے ہیں۔

مقدمے کی کارروائی ختم ہونے کے بعد لوگوں نے کمرہ عدالت میں فتح کا نعرہ لگایا اور پھر عدالت کے باہر دعائیہ تقریب منعقد کی، جہاں انہوں نے زرد جھنڈے لہرائے، جن پر نیلی سیاہی سے ’خالصتان‘ لکھا ہوا تھا۔ امریکی جھنڈے بھی اٹھائے گئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گرپتونت سنگھ پنوں جو خودمختار سکھ ریاست کے قیام کی وکالت کرتے ہیں اور انڈین حکومت انہیں دہشت گرد سمجھتی ہے، نے بعد میں ٹیلی فون پر انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ’چاہے مجھے گولی کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔‘

انہوں نے کہا: ’میں دہشت گرد نہیں ہوں۔‘ گرپتونت سنگھ نے خود کو ایک سکھ کے طور پر بیان کیا جو انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر پنجاب کو ایک ایسی جگہ بنانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں جہاں ’تمام مذاہب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔‘ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ انڈیا میں ان حکام کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے نکھل گپتا کو ہدایات دی تھیں۔

نکھل گپتا کو جون 2023 میں جمہوریہ چیک، جہاں انہیں پراگ میں گرفتار کیا گیا تھا، سے امریکہ حوالگی کے بعد سے ضمانت کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔ اقرار جرم کے معاہدے میں انہیں کم از کم دو دہائیوں کی قید کاٹنے کا کہا گیا ہے جبکہ سزا سنانے کے لیے 29 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا نے ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے خفیہ افسر کو، جسے وہ اجرتی قاتل سمجھ کر بھرتی کر رہے تھے، تجویز دی کہ برٹش کولمبیا، کینیڈا میں ایک سکھ مندر کے باہر ہردیپ سنگھ نجر کا جون 2023 میں ہونے والا قتل انہی افراد کا کام تھا، جو گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان دستاویزات میں مزید بتایا گیا کہ نکل گپتا نے مذکورہ افسر کو بتایا کہ نجر ’بھی ہدف تھے‘ اور ’ہمارے بہت سے اہداف ہیں۔‘ انہوں نے افسر کو ہدایت کی کہ چونکہ نجر مر چکے ہیں اس لیے اب گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے نکھل گپتا کو ’محض ایک مہرہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’انڈین حکومت اس آپریشنل مہرے کے پیچھے خود کو نہیں چھپا سکتی کیوں کہ حکم، ہدایت اور فنڈز انڈین حکومت کی طرف سے منظور کیے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں پیچھے ہٹنے اور غلام کی طرح جینے کی بجائے انڈیا کی گولی کھانے کے لیے تیار ہوں۔ سکھ ریاست خالصتان کی آزادی کے لیے کام کرنا میری زندگی کا مشن ہے، جب تک کہ یا تو میں مارا جاؤں یا پنجاب ایک آزاد ملک بن جائے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *