امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے فوجی طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہا؟ 4 بڑی وجوہات

فروری کے آخر میں جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی جنگ شروع کی ہے، ایران نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس کے نتیجے میں اس تنگ آبی گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے عالمی ایندھن کا ایک بحران پیدا ہوا ہے، حالانکہ کچھ جہاز اب بھی آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ تیل اور گیس کی ترسیلات کے لیے اس آبی راستے کو پوری طرح دوبارہ کھولے، اور اس کوشش میں نیٹو اتحادیوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

ہم نے رائل آسٹریلین نیوی میں 20 سال خدمات انجام دینے والے بحری امور کی ماہر جینیفر پارکر سے پوچھا کہ تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے کس نوعیت کی فوجی قوت درکار ہو گی اور امریکہ نے ابھی تک یہ قدم کیوں نہیں اٹھایا۔

جہازوں پر حملوں کو روکنا مشکل کیوں؟

اس حوالے سے خطے کی جغرافیائی نوعیت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران واضح طور پر خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے شمالی حصے پر غالب ہے۔

یہ قربت اسے اپنے سستے ہتھیاروں، جیسے ڈرونز، کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کے قابل بناتی ہے۔

تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے یا کم از کم خطرات کو کم کرنے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل فوجی مہم درکار ہوتی ہے۔

پہلا مرحلہ ایران کی وہ صلاحیت ختم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ جہازوں کو نشانہ بناتا ہے۔

اس کے دو طریقے ہو سکتے ہیں • ایران کو قائل یا مجبور کرنا کہ وہ جہازوں پر حملے روک دے۔

• یا ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا، یعنی اس کے ساحلی ریڈار مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور اسلحہ گوداموں کو تباہ کر دینا۔

امریکہ کے پاس اتنی فضائی طاقت، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان میں سے زیادہ تر اہداف کو تلاش کرکے تباہ کر سکے۔

ایران کے بے پناہ ڈرونز کو تلاش اور تباہ کرنا زیادہ مشکل ہو گا کیونکہ وہ کہیں بھی ذخیرہ کیے جا سکتے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر انٹیلیجنس انتہائی اہم ہو گی۔

جب آپ بمباری کے ذریعے خطرے کو کم کر دیتے ہیں تو آبنائے سے جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کا دوسرا حصہ ایک اعتماد سازی کی مہم ہوتا ہے۔

اس کے لیے ابتدائی الرٹ فضائی طیاروں اور سمندری گشت کرنے والے جہازوں کی ضرورت ہو گی جو نہ صرف آبنائے بلکہ خلیج عمان، خلیج فارس اور ایران کے ساحلی علاقوں کی نگرانی کریں۔

لڑاکا طیارے آبنائے اور خلیج کے اوپر گشت کے لیے تعینات ہونے چاہییں اور ہیلی کاپٹر ہر وقت حملے کی صورت میں کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

پانی میں امریکہ کو جنگی جہاز تعینات کرنے ہوں گے جو وقتاً فوقتاً قافلوں کو حفاظتی سکارٹ فراہم کریں۔

اگر آبنائے میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کی تصدیق ہو جائے یا صرف شبہ بھی ہو تو صورتحال پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

امریکہ کو ایک وسیع اور وقت طلب صفائی مہم کی ضرورت ہوگی۔

تو امریکہ آبنائے کو فوجی طور پر محفوظ بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرے گا؟

چار بنیادی وجوہات ہیں کہ امریکہ پہلے مرحلے (ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت ختم کرنا) کو مکمل کیے بغیر آبنائے کو فوجی طور پر محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ یہ اقدام ابھی تک مہم کا مرکزی ہدف نہیں بنا۔

اول، اس سے فوجی وسائل، جیسے طیارے، دوسری جگہوں سے ہٹانے پڑیں گے جہاں وہ ٹرمپ کے جنگی اہداف کے لیے ضروری ہیں۔

دوم، آبنائے کو بحفاظت جہاز رانی کے قابل بنانے کے لیے صرف پانی نہیں بلکہ اس کے دونوں جانب زمین کو بھی محفوظ کرنا ہو گا۔

اور اس کے لیے زمینی افواج یا ایران کے ساحلوں پر چھاپہ مار کارروائیاں درکار ہوں گی، جو امریکی فوج کے لیے پیچیدہ اور خطرناک ہوں گی۔

سوم، جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی تعداد میں بحری جہاز چاہیے ہوں گے۔ حقیقت پسندانہ طور پر ہر سکارٹ آپریشن کے لیے ایک یا دو جنگی جہاز چاہییں۔

اس سے بڑے قافلے حملے کے زیادہ خطرے میں ہوں گے، جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو نمایاں حد تک کم نہ کر دیں۔

چہارم، فوج کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کے اپنے وسائل کے لیے خطرہ کتنا ہے اور آبنائے کھولنے سے فائدہ کتنا ہو گا۔

ایک امریکی جنگی جہاز میں 200 سے زیادہ اہلکار ہوتے ہیں۔

ایران کے بغیر پائلٹ سمندری جہازوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے کیا یہ اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنے کے قابل ہے؟ اس سے پہلے کہ آپ ایران کے ساحلی خطرات کو کم کریں؟

آبنائے میں بارودی سرنگوں کا کیا معاملہ ہے؟

یہ ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ لیکن پہلی بات یہ ہے کہ ایران کو سرنگیں بچھانے کی ضرورت بھی نہیں یا اسے صرف امریکہ اور دیگر ممالک کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس نے ایسا کر دیا ہے۔

یہی کافی ہے کہ شہری جہاز آبنائے سے گزرنے سے ہچکچائیں۔ کبھی کبھی سرنگیں پانی کی سطح پر تیرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن اکثر وہ پانی کے اندر یا لنگر انداز ہوتی ہیں۔

امریکہ کو انہیں ہٹانے کے لیے غوطہ خوروں یا ریموٹ کنٹرول گاڑیوں کو جہازوں سے بھیجنا ہوگا۔ اس میں کئی ہفتے یا شاید مہینے لگ سکتے ہیں۔

اگرچہ اس کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی لیکن میرا خیال ہے کہ ایران نے بڑے پیمانے پر سرنگیں نہیں بچھائی ہوں گی۔

اس کی دو وجوہات ہیں: اول، ایران کی معیشت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خلیج فارس میں خارک جزیرے سے اپنا تیل آبنائے کے ذریعے بھیجے۔

ایران کے پاس آبنائے سے باہر بھی بندرگاہیں ہیں لیکن وہ بڑے جہازوں کے قابل نہیں، اس لیے سرنگیں بچھانا خود ان کی تجارت میں رکاوٹ ڈالے گا۔

دوم، بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے صوتی بارودی سرنگیں استعمال کی ہیں۔

یہ ایسی بارودی سرنگیں ہوتی ہیں جو جہاز کی ’صوتی شناخت‘ یعنی پانی میں اس کی آواز کے مطابق پھٹتی ہیں۔

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن یہ بعید ہے کہ ایسی سرنگیں اس قابل ہوں کہ ایرانی پرچم بردار جہازوں اور دیگر ممالک کے جہازوں میں درست فرق کر سکیں۔

بڑی تعداد میں تجارتی جہازوں کی درست صوتی شناخت کو برقرار رکھنا، خصوصاً آبنائے جیسے گھنے اور متحرک بحری ماحول میں، انتہائی مشکل ہو گا۔

عملاً یہ سرنگیں ہر طرح کی جہاز رانی کے لیے خطرہ بنیں گی۔

امریکہ کے پاس ایران کے ساحل کے ساتھ ساتھ نمایاں انٹیلیجنس، نگرانی اور جاسوسی کے نظام موجود ہیں، لہٰذا وہ سرنگیں بچھانے کی کارروائیوں کا سراغ لگانے کا امکان رکھتا ہے۔

اگرچہ یہ کارروائیاں کسی بھی جہاز، حتیٰ کہ ماہی گیری کی کشتیوں، سے بھی کی جا سکتی ہیں۔

اور ایران کی ڈرون کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا کیا؟

ایران نے اب تک جنگ میں مختلف قسم کے ڈرون استعمال کیے ہیں۔ بغیر پائلٹ جہاز یا بغیر پائلٹ سطحی جہاز ریموٹ کنٹرول ہوتے ہیں اور تجارتی ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیگر ہتھیاروں، جیسے میزائلوں، کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران کے ڈرونز کو زمین پر نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہے کیونکہ وہ تقریباً کہیں سے بھی لانچ کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ انہیں کہیں بھی بنایا نہیں جا سکتا لیکن ڈرونز کو میزائلوں جتنی جدید تنصیبات نہیں چاہییں۔ مختصر یہ کہ انہیں ڈھونڈنا اور تباہ کرنا زیادہ مشکل ہے۔

لیکن امریکہ ایران کے ساحل کے ساتھ ساتھ کچھ لانچنگ پوائنٹس اور ڈرون ذخیرہ گاہوں پر بمباری کر سکتا ہے تاکہ جہازوں پر کچھ حملے روکے جا سکیں۔

امریکہ کے لیے اس وقت ایران میں اولین ترجیح کیا ہے؟

اگرچہ حکومت کی تبدیلی پر بہت بحث ہو رہی ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ اپنے چار اہم فوجی اہداف کے بارے میں واضح رہی ہے، جو یہ ہیں کہ تباہ کیا جائے:

• ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت

• اس کی جوہری صلاحیت

• اس کی بحریہ (جس کا بڑا حصہ پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے)• اور اس کے پراکسی نیٹ ورک، جن میں لبنان میں حزب اللہ بھی شامل ہے، جس پر گذشتہ کئی ہفتوں سے اسرائیل حملے کر رہا ہے۔

ایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے کے لیے بڑی مقدار میں طیاروں اور اسلحے کی ضرورت ہے، جیسا کہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری مہمات واضح کر چکی ہیں۔

ان وسائل کو آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے منتقل کرنا ان فوجی اہداف کے حصول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *