افغانستان کی طالبان حکومت نے منگل کو کہا کہ اس نے سعودی عرب کی ثالثی میں تین پاکستانی فوجیوں کو رہا کر دیا۔یہ فوجی گذشتہ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔
اکتوبر میں ہونے والی ان جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے گئے تھے، جس کے بعد دونوں طرف سے ایک نازک جنگ بندی پر تو اتفاق ہوا، لیکن طویل مدتی سیاسی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فوجی، جو 12 اکتوبر کو سرحد کے ساتھ ہونے والی لڑائی کے دوران حراست میں لیے گئے تھے، کابل میں سعودی وفد کے حوالے کر دیے گئے۔
اُن تین پاکستانی فوجیوں کو رہا کر دیا گیا جو 20 ربیع الثانی 1447ھ بمطابق 12 اکتوبر 2025ء کو پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ بعد ازاں انہیں برادر ملک سعودی عرب سے آئے ہوئے معزز وفد کے حوالے کر دیا گیا۔
2/2 pic.twitter.com/IZoDmtqXfx— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 17, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ رہائی طالبان حکومت کی اس پالیسی کے مطابق ہے کہ وہ ’تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھے‘ اور یہ اقدام مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے قبل کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان نے مزید کہا کہ اسے سعودی عرب کی درخواست پر بھی عمل میں لایا گیا، جس نے حال ہی میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کے لیے درخواست کا جواب نہیں دیا۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان اہم سرحدی گذرگاہیں کشیدگی کے دوران وقفے وقفے سے بند کی گئی ہیں، جس سے 2,600 کلومیٹر (1,600 میل) طویل سرحد کے پار تجارت اور آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان الزام لگاتا ہے کہ افغانستان کے طالبان حکمران ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں جبکہ کابل یہ الزام مسترد کرتا ہے۔
