افغان طالبان حکومت نے 11/9  سے پہلے کی صورتحال سے بدتر حالات پیدا کر دیے: پاکستانی صدر

صدر آصف علی زداری نے افغانستان میں حالیہ فضائی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنے عوام کو سرحد پار سے  ’دہشت گردی‘ سے محفوظ رکھنے کےحق دفاع پر مبنی ہیں اور حالات ستمبر 2001 سے بھی بدتر ہو گئے ہیں۔

ملک میں عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے جواب میں پاکستان نے ہفتہ اور اتوار کی درمیابی شب افغانستان کے صوبہ ننگر ہار اور پکتیکا میں فضائی حملوں میں ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا کہا تھا جس میں پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق 80 جنگجو مارے گئے۔

افغانستان نے اس حملے پر احتجاج کرتے ہوئے کابل میں تعیناتی پاکستانی سفیر کو طلب کر کے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا تحفظ اسلامی امارت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور خبردار کیا کہ ایسے فوجی اقدامات سے پیدا ہونے والی کسی بھی منفی صورت حال کی ذمہ داری پاکستانی فریق پر عائد ہو گی۔

جبکہ افغان وزارت دفاع نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ پاکستانی حملوں کا ‘انشاللہ مناسب وقت پر ایک موزوں اور نپا تلا جواب دیا جائے گا۔‘

صدر آصف علی زداری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں ’طالبان حکومت نے  ایسے حالات پیداکر دے،جو 9/11 سے پہلے کی صورتحال سے بھی بدتر ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔‘

پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو بھی خبردار کیا گیا تھا جب ’دہشت گرد وں ‘کو سہولت دی جائے تونتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہری بھگتتے ہیں۔

’افغانستان میں طالبان رجیم  نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اور افغان رجیم دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی  کر رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جانی چاہیے۔

صدر آصف  علی زرداری نےکہاہےکہ ’سرحد پار دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا ایکس پر اپنے پیغام  میں صدرِ مملکت  نے کہا  کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنی عوام کوسرحد پار سے آنے والی دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے فطری حقِ دفاع پر مبنی ہیں، اور یہ ایسے متعدد انتباہات کے بعد کیے گئے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاتا رہا۔

ایوان صدر سے جاری بیان میں آصف زداری نے کہا کہکہ یہ گہری تشویش کا باعث ہے کہ ’کابل میں قائم عملی (ڈی فیکٹو) حکام، جس حکومت کو اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی، افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو سرگرم رہنے کی اجازت دیتے رہے ہیں، جو دوحہ معاہدے میں کیے گئے ان وعدوں کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت  یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ  پاکستان نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب واقع دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود رکھا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔
 

’اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔‘

صدر مملکت نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ ترین رپورٹ نے بھی پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد رکن ممالک مسلسل رپورٹ کر رہے ہیں کہ داعش خراسان ، ٹی ٹی پی، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ المعروف ترکستان اسلامک پارٹی ، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے  استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *