افغان جنگ بندی کے اختتام کے قریب پاکستان کا ’دہشت گردی کے خاتمے‘ کا عزم

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے پیر کو کہا کہ ملک ’دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے‘ کے لیے پرعزم ہے۔ 

اس سے قبل دونوں ممالک نے گذشتہ بدھ کو رمضان کے اختتام پر عید الفطر کی تعطیلات کے لیے کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کو روکنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت پیر کی نصف شب تک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

لیکن یوم پاکستان کے موقعے پر اپنے ایک پیغام میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اشارہ دیا کہ اس تنازعے کے حوالے سے ملک کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ افغانستان کے اندر پاکستان کی کارروائیاں اسی ہدف کے حصول کے لیے ہیں۔‘

اتوار کو طالبان حکومت اور ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ مشرقی سرحدی صوبے کنڑ میں پاکستان کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے سے ایک شخص چل بسا۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان مہینوں سے تنازع جاری ہے جس کی وجہ اسلام آباد کا یہ دعویٰ ہے کہ کابل ان عسکریت پسندوں کو پناہ دیے ہوئے ہے جو اس کی سرزمین پر سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔

طالبان حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیر کو یوم پاکستان کے موقعے پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کے اندر فوجی کارروائی ’دہشت گردی کے خلاف ہمارے قومی عزم کی علامت‘ ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’ہم اپنے ملک کے امن و سلامتی کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔‘

عید کی جنگ بندی کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر گذشتہ پیر کو ہونے والے پاکستانی حملے کے بعد عمل میں آئی ہے، جس کے بارے میں افغان حکام کا کہنا تھا کہ اس میں 400 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم نارویجن ریفیوجی کونسل نے اگلے دن کہا کہ حملے میں ’سینکڑوں‘ اموات ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ لاشوں کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید جنازے متوقع ہیں۔

ہفتے کے روز افغان وزارت صحت نے خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ ’درجنوں لاشوں‘ کی شناخت میں مدد کے لیے فرانزک میڈیسن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کریں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے پیر کو کہا کہ ان کی تحقیقات کے ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 143 اموات جب کہ 119 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لیکن ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ بعض لاشوں کی شناخت میں مشکلات کی وجہ سے یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔

گذشتہ منگل کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اگر منشیات کی بحالی کے مرکز پر ہونے والے حملے کو نکال دیا جائے، تو 26 فروری کو لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے اب تک کم از کم 76 افغان شہری مارے جا چکے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں ایک لاکھ 15 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

یوناما کے ترجمان نے کہا، ’جنگ بندی کے مطالبات کا سلسلہ جاری ہے۔ چین نے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی ثالثی کی حمایت کریں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *