افغانستان کے دیہی علاقوں میں ریڈیو لڑکیوں کی تدریس کا متبادل ذریعہ بن گیا

افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے بعد دیہی علاقوں میں ریڈیو کے ذریعے تدریس ایک اہم متبادل ذریعہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہزاروں لڑکیاں اب گھر بیٹھ کر ریڈیو کے تعلیمی پروگرام سن رہی ہیں تاکہ ان کا سیکھنے کا عمل مکمل طور پر رُک نہ جائے۔

افغانستان تجزیاتی نیٹ ورک یا (Afghanistan Analysts Network) کی اس تحقیق کا عنوان ہے: ’خلا کو پُر کرنے کی کوشش: دیہی افغانستان میں ریڈیو کے ذریعے تعلیم اور لڑکیوں کی تعلیم۔‘

رپورٹ کے مصنف افغان محقق شریف اکرم ہیں جنہوں نے مختلف دیہی علاقوں میں انٹرویوز اور مشاہدات کے ذریعے اس نظام کا جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد لڑکیوں کے لیے ثانوی سکول بند کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں لاکھوں طالبات باقاعدہ تعلیم سے محروم ہو گئیں۔

اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں کے مطابق تقریباً 22 لاکھ  لڑکیاں ایسی ہیں جو ثانوی درجے (یعنی چھٹی جماعت کے بعد) کی عمر میں ہیں لیکن انہیں سکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اگر ان لڑکیوں کو بھی شامل کیا جائے جو پہلے ہی سکول سے باہر تھیں، تو اندازہ ہے کہ تقریباً 25 لاکھ سکول جانے کی عمر کی لڑکیاں افغانستان میں تعلیم سے محروم ہیں۔ مجموعی طور پر ملک میں تقریباً 37 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، جن میں لگ بھگ 60 فیصد لڑکیاں ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پہلے ہی سماجی پابندیوں، سکولوں کی کمی اور سلامتی کے مسائل کی وجہ سے محدود تھی، لیکن نئی پابندیوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں ریڈیو ایک نسبتاً قابل رسائی ذریعہ ثابت ہوا ہے کیونکہ اسے استعمال کرنے کے لیے نہ انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ مہنگے آلات درکار ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’ریڈیو ایک ایسا ذریعہ ہے جو دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتا ہے اور جہاں دیگر تعلیمی وسائل موجود نہیں ہوتے وہاں بھی تعلیم تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کے کئی دیہی علاقوں میں مقامی ریڈیو مراکز اب نصابی مضامین پر مبنی پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام عام طور پر مقررہ اوقات میں نشر ہوتے ہیں اور طالبات گھر پر بیٹھ کر انہیں سنتی ہیں۔

تحقیق میں شامل انٹرویوز سے معلوم ہوا کہ بہت سی لڑکیاں روزانہ یہ پروگرام سنتی ہیں اور بعد میں گھر کے کسی فرد کے ساتھ مل کر اسباق کو دہراتی ہیں۔

ایک والد نے محققین کو بتایا: ’ہماری بیٹی سکول نہیں جا سکتی، لیکن وہ ریڈیو پر نشر ہونے والے اسباق باقاعدگی سے سنتی ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ گھر پر ہی اس کی مدد کریں تاکہ وہ سیکھتی رہے۔‘

اسی طرح ایک مقامی مبصر نے کہا: ’ریڈیو تعلیم ان لڑکیوں کے لیے امید کا ذریعہ ہے جن کے سکول بند ہو چکے ہیں۔ کم از کم وہ تعلیم سے مکمل طور پر محروم نہیں ہوتیں۔‘

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوب مشرقی خطے لویہ پکتیا سمیت کئی علاقوں میں ریڈیو تعلیم کو نسبتاً مثبت ردعمل ملا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ قدامت پسند معاشروں میں یہ طریقہ اس لیے بھی قبول کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں لڑکیاں گھر سے باہر نہیں جاتیں۔

افغان طالبان کہتے ہیں کہ تعلیم مکمل طور پر منع نہیں ہے لیکن اسے ان کی شریعت کی تشریح کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے بعض ترجمانوں کے مطابق خواتین کو تعلیم مل سکتی ہے، مگر اس کے لیے سخت اسلامی ضابطے، پردہ اور مرد و عورت کی مکمل علیحدگی ضروری ہے۔

محقق شریف اکرم کے مطابق: ’چونکہ لڑکیاں گھر کے اندر رہ کر تعلیم حاصل کرتی ہیں، اس لیے بعض قدامت پسند خاندانوں کے لیے یہ طریقہ زیادہ قابل قبول ہو جاتا ہے۔‘

تاہم رپورٹ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ ریڈیو تعلیم کی واضح حدود موجود ہیں۔ اس طریقے میں طلبہ براہ راست استاد سے سوال نہیں پوچھ سکتے اور نہ ہی عملی مشقیں یا کلاس روم سرگرمیاں ممکن ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق: ’ریڈیو تعلیم مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن یہ سکول کی جگہ نہیں لے سکتی۔‘

تعلیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سکول صرف نصاب پڑھانے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہاں سماجی تربیت، بحث و مباحثہ اور تنقیدی سوچ کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے، جو ریڈیو کے ذریعے مکمل طور پر فراہم نہیں کی جا سکتی۔

تحقیق افغانستان کے وسیع تر تعلیمی بحران کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق ملک میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور تعلیمی معیار بھی کمزور ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دس سال کی عمر کے نوّے فیصد سے زیادہ بچے سادہ متن روانی سے پڑھنے کے قابل نہیں، جسے ماہرین ’تعلیمی غربت‘ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریڈیو تعلیم کچھ حد تک خلا پر کرنے میں مدد کر سکتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہے۔ ان میں گھریلو حمایت، ریڈیو تک رسائی اور مقامی برادری کا رویہ شامل ہیں۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ افغانستان میں ریڈیو کو تعلیمی مقاصد کے لیے ماضی میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سکولوں کی کمی تھی۔

موجودہ حالات میں یہ طریقہ دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ طویل مدت کا حل نہیں ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر محقق شریف اکرم لکھتے ہیں: ’ریڈیو تعلیم امید کی ایک کرن ضرور ہے، لیکن یہ باقاعدہ سکولوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اصل حل یہ ہے کہ لڑکیوں کو دوبارہ رسمی تعلیم تک رسائی دی جائے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *