’افغانستان کی جارحیت کے خلاف‘ سینیٹ سے مذمتی قرارداد منظور

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے پاکستان کی سرحد پر ’افغانستان کی جارحیت کے خلاف‘ جمعے کو متفقہ مذمتی قرارداد منظور کر لی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستانی قوم کی عزت و وقار پر براہ راست حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا جواب بھرپور، متناسب اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات کی شب سے سرحد پر جھڑپیں جاری ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے بلااشتعال حملے کا ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت فوری اور موثر جواب دیا، جس میں حکام کے مطابق اب تک 133 کے قریب افغان اہلکار مارے گئے جبکہ دو پاکستانی فوجی جان سے گئے ہیں۔ ان جھڑپوں کو وزیر دفاع  خواجہ آصف نے ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس اکتوبر سے حالات کشیدہ ہیں، جس میں کمی کے لیے قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم تجارت اور آمدورفت کے کے لیے دونوں ملکوں کی تجارتی گزرگاہیں اس وقت سے بند ہیں۔

حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اموات کے ردعمل میں پاکستان نے 21 فروری کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔

سینیٹ سے منظور ہونے والی قرارداد، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق افغانستان سے کی جانے والی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ سفارتی اصولوں اور ہمسایہ ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کے بنیادی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جرات، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔‘

قرارداد کے مطابق: ’گذشتہ 40 سال سے زائد عرصے کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کرتے ہوئے غیر معمولی معاشی، سماجی اور سکیورٹی بوجھ برداشت کیا۔‘

افغانستان کی مدد سے متعلق قرارداد میں مزید کہا گیا کہ انہیں انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی گئی، امن کی کوششوں میں سہولت کاری کی گئی جبکہ بین الاقوامی فورمز پر افغانستان کے استحکام کے لیے مسلسل آواز اٹھائی گئی، ’جس کی قیمت پاکستان کو اپنی قومی ترقی اور داخلی سلامتی کی صورت میں بھاری نقصان کی شکل میں چکانی پڑی۔‘

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی اس ’باہمی خیرسگالی کے برعکس پاکستان کو مسلسل جارحانہ بیانات، سرحد پار خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین سے سرگرم پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی موجودگی کا سامنا ہے۔‘

افغان طالبان حکومت سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تمام ’جارحانہ سرگرمیاں بند کرے، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی یا جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کرے۔‘

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کے صبر کو ’کمزوری‘ نہ سمجھا جائے اور نہ ہی ’استحکام کی خواہش کو فیصلہ کن ردعمل سے قاصر ہونے کے مترادف تصور کیا جائے۔‘

سینیٹ نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس پیش رفت کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور افغان طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ سینیٹ ’تمام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں متحد ہے اور ریاست کی جانب سے علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام ضروری اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘

قرارداد کی منظوری سے قبل سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو مؤثر جواب دینا ہوگا، تاہم اس کے لیے محض ردعمل نہیں بلکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں اس وقت کیا ہو رہا ہے۔ ’اقوام متحدہ کا قیام تو عالمی امن اور قانون کے لیے عمل میں آیا تھا، لیکن موجودہ عالمی حالات میں یہ ادارہ اپنی موثر حیثیت کھو چکا ہے اور اب محض ایک بحث اور مباحثے کا فورم بن کر رہ گیا ہے۔‘

سینیٹر سید علی ظفر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں لیکن کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی جبکہ انڈیا میں وزیراعظم مودی بھی اسی طرزِ عمل پر عمل پیرا ہیں۔‘

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ’پاکستان کو لانگ ٹرم اور دیرپا حل کی ضرورت ہے اور سینیٹ کو صرف قرارداد منظور کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک جامع اور بہتر حکمت عملی بھی ترتیب دینی چاہیے۔‘

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی افغانستان کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *