افغانستان سے یورپ کے لیے برآمدات کا آغاز: لاپس لازولی راہداری کیا ہے؟

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستوں کی بندش اور اب ایران اور خلیج فارس میں کشیدگی کے باعث پہلی مرتبہ لاپس لازولی راہداری کے ذریعے ترکیہ کو تجارتی سامان کی سپلائی کا آغاز کر دیا ہے۔ 

اس راہداری کا بنیادی مقصد افغانستان، ترکمانستان، آذربائیجان، جارجیا اور ترکیہ کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ 

افغانستان کے طلوع نیوز کے مطابق پیر کو افغانستان کے صوبہ ہرات سے آٹھ کنٹینرز روانہ ہوئے جو اسی راہداری کو استعمال کرتے ہوئے ترکی پہنچیں گے۔

یہ معاہدہ 2018 میں افغانستان، آذربائجان، ترکمانستان، جارجیا اور ترکیہ کے درمیان طے پایا گیا تھا تاکہ وسطی ایشیائی ممالک کو براہ راست یورپ تک رسائی دی جا سکے۔

لاپس لازولی یا سنگ لاجورد بدخشان کے پہاڑوں میں پایا جانے والا قیمتی پتھر ہے اور یہ نام اسی تاریخی راستے کو دیا گیا ہے، کیونکہ سینکڑوں سال پہلے اسی راستے سے یہ پتھر (لاجورد) یورپ سپلائی کیا جاتا تھا۔

اس راہداری کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان اور ایران کا راستہ استعمال کیے بغیر یورپی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔

راہداری کہاں سے گزرتی ہے؟

سفر کا آغاز افغانستان کے صوبہ ہرات سے ہوتا ہے، جہاں سے کارگو ریل کے ذریعے افغانستان اور ترکمانستان کی سرحد پر واقع تورغنڈی یا صوبہ فاریاب اور ترکمانستان کی سرحد تک پہنچایا جاتا ہے۔ 

تورغنڈی سے یہ سامان ریل کے ذریعے ترکمانستان کی ترکمن باشی بندرگاہ تک جاتا ہے اور پھر بحیرہ کیسپین کے راستے بحری جہازوں کے ذریعے آذربائیجان کی باکو بندرگاہ پہنچتا ہے۔ 

باکو پہنچنے کے بعد یہ سامان دوبارہ ریل کے ذریعے جارجیا کی بندرگاہوں اور پھر سمندری یا ریل کے راستے ترکیہ تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ وہاں سے مختلف یورپی ممالک تک سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کی آرا

ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل راستوں کے مقابلے میں یہ راستہ کافی طویل ہے۔ 

مثال کے طور پر کابل سے پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد یا بلوچستان میں چمن کے راستے کراچی بندرگاہ تک کا فاصلہ تقریباً 1400 کلومیٹر ہے، جہاں کارگو تین سے چار دن میں پہنچ جاتا ہے۔ 

اس کے مقابلے میں لاپس لازولی راہداری تقریباً 3,000 کلومیٹر لمبی ہے اور یہاں سامان پہنچنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ 

اسی طرح افغانستان کو ایران کا راستہ بھی نسبتاً سستا پڑتا ہے، جہاں کابل سے چابہار بندرگاہ تک کا فاصلہ 1,800 کلومیٹر ہے اور کارگو آٹھ سے 10 دن میں منزل پر پہنچ جاتا ہے۔

اسی طرح لاپس لازولی راہداری میں مختلف مقامات پر مختلف روڈ اور سمندری راستوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے بھی کارگو کا خرچہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ مختلف مقامات پر سامان کنٹینرز روڈ سے سمندری جہازوں میں لوڈ کیا جاتا ہے۔

افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سربراہ حاجی یونس مہمند سمجھتے ہیں کہ یہ راہداری پاکستان اور ایران کے راستوں سے طویل ضرور ہے لیکن اگر تجارت کا حجم بڑھ جائے، تو افغانستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا،’اگر پاکستان اور ایران کے راستوں میں رکاوٹ ہے، تو ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ افغانستان چپ بیٹھ جائے گا بلکہ متبادل راستوں کے ذریعے مختلف ممالک سے تجارت جاری رکھے گا۔‘

شاہد حسین صنعت کار ہیں جو افغانستان اور وسطی ایشیا ممالک  کے ساتھ درآمد و برآمد کا کام کرتے ہیں اور سرحد چیمبر اف کامرس کے سٹینڈنگ کمیٹی  برائے پاکستان و افغانستان بائلئٹرل ٹریڈ پروموشن کے چیئرمین بھی ہیں۔

ان کے مطابق: ہرات وسطی افغانستان یعنی کابل سے بہت دور ہے جو تقریباً 1000 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، تو لاپس لازولی کابل کے کارگو کے بہت طویل راستہ ہے۔ 

شاہد حسین کے مطابق بذریعہ ہوائی راستے افغانستان سے کارگو اسی راہد داری کے ذریعے تو سستا پڑتا ہے لیکن زمینی راستوں میں کراچی کی بندرگاہ یا واہگہ بارڈر سب سے آسان اور مختصر راستے ہیں۔

انہوں نے بتایا، ’یہ راہداری ہرات جو ایک صنعتی صوبہ ہے، ان کے لیے شاید کچھ فائدہ دے لیکن مشرقی اور مرکزی افغانستان سے بہت دور پڑتا ہے۔‘

دوسری بنیادی بات شاہد حسین کے مطابق، زراعت افغانستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے لیکن اس راہ دادی کے ذریعے زرعی اشیا پہنچانا فزیبل اس لیے نہیں ہے کہ ترکمانستان، آذربائجان اور ترکی کی اپنی زراعت بہت بہتر ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر اقبال بھی اسی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کارگو میں فاصلے کا بہت عمل دخل ہوتا ہے اور جتنا راستہ طویل ہوتا ہے خرچہ اتنا ہی بڑھتا ہے۔

ڈاکٹر ناصر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’افغانستان کے لیے پاکستان اور ایران کی تجارتی گزارگاہیں موزوں اور مختصر فاصلے کی گزر گاہیں ہیں اور اس کے علاوہ دوسرے راستے ایمرجنسی بنیادوں پر استعمال تو کیے جا سکتے ہیں لیکن وہ عارضی ہی ہوں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *