اسلام آباد کی واشنگٹن سے درخواست پر اسرائیل نے دو ایرانی رہنماؤں کو ہٹ لسٹ سے ہٹا دیا: پاکستانی عہدیدار

پاکستان کے ایک عہدیدار نے خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سیپکر محمد باقر قالیباف کو اپنی ہٹ لسٹ سے ہٹا دیا۔

خبر میں کہا گیا کہ پاکستان نے واشنگٹن سے درخواست کی تھی کہ ان شخصیات کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اسرائیل کے پاس ان کے ٹھکانے (کوآرڈینیٹس) موجود تھے اور وہ انہیں ختم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے امریکہ سے کہا کہ اگر انہیں بھی ختم کر دیا گیا تو پھر بات چیت کے لیے کوئی باقی نہیں رہے گا، چنانچہ امریکہ نے اسرائیل سے پیچھے ہٹنے کو کہا۔‘

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رواں ہفتے کے اوائل میں خبر دی تھی کہ پاکستان خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ امریکی اخبار ایکسیوس نے بھی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایک اجلاس بلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں تہران کی نمائندگی قالیباف اور دیگر حکام، جبکہ امریکہ کی نمائندگی وٹکوف، کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔‘

ان مذاکرات میں کون شرکت کرے گا یا یہ کب ہوں گے اس بارے میں تو پاکستان کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا البتہ وزیراعظم شہباز شریف رواں ہفتے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کی رضامندی سے مشروط، پاکستان جاری تنازع کے جامع تصفیے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو اعزاز سمجھتا ہے۔

جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو کہا تھا کہ ’پاکستان، اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ / خلیجِ فارس میں جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اور بات چیت کے ذریعے کوششوں کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سفارت کاری اور مذاکرات کے عمل میں اکثر بعض معاملات کو رازداری کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا میڈیا سے گزارش ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور فیصلوں اور نتائج سے متعلق سرکاری اعلانات کا انتظار کرے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *