اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں ایک مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
چھ فروری 2026 کو ہونے والے اس واقعے میں کم از کم 32 افراد جان سے گئے اور 92 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔
سلامتی کونسل کے موجودہ صدر جیمز کاریوکی (برطانیہ) کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کونسل کے تمام اراکین نے متاثرین کے خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق عالمی ادارے کے نمائندوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔‘
انہوں نے ’ان کارروائیوں کے مرتکب افراد، منتظمین، مالی معاونین اور سہولت کاروں کو جوابدہ ٹھہرانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔‘
سلامتی کونسل نے تمام عالمی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال طور پر تعاون کریں۔‘
بیان کے آخر میں اس بات کو دہرایا گیا کہ ’دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی سراسر مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کے محرکات کیا ہیں اور یہ کارروائی کہاں، کب اور کس نے کی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین، بشمول انسانی حقوق اور مہاجرین کے قوانین کے تحت، عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس واقعے کی متعدد ملک اور ادارے مذمت کر چکے ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مملکت، برادر اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے۔‘
متحدہ عرب امارات نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یو اے ای ان مجرمانہ کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘
افغانستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جمعے کی شام جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت خارجہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازہ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، فرانس، نیدرلینڈز، انڈیا، ایران اور آذربائیجان نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی اس حملے کی مذمت کر چکے ہیں۔
