پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جن کی کامیابی پورے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتی ہے۔ لیکن انہوں نے متنبہ کیا کہ اسرائیل سپوئلر کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے ان مذاکرات کے لاجسٹک، سیاسی اور تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
امریکہ سمیت کئی اہم دارالحکومتوں میں سفارتی فرائض سرانجام دینے والے اعزاز احمد چوہدری نے ان مذاکرات کو ‘انتہائی مشکل’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے موقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ’ایران چاہتا ہے کہ امریکہ خلیج سے اپنے تمام فوجی اڈے ختم کرے، اقتصادی پابندیاں ہٹائے اور اسرائیل کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت دے۔ دوسری جانب امریکہ کی خواہش ہے کہ ایران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو مستقل کھلا رکھے اور اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے۔
پاکستان اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے دوران کسی مستقل حل تک پہنچنے کے لیے ممکنہ طور پر ہفتے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی کریں گے اور ان کے ساتھ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر بھی ہوں گے۔
ہنگری میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، وینس نے ایران پر زور دیا کہ وہ لبنان کے حوالے سے جنگ بندی کو ٹوٹنے نہ دے، اور اصرار کیا کہ وہاں لڑائی روکنا گذشتہ رات طے پانے والے معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔
ایرانی وفد میں کون شامل ہوں گے، اس کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں ہوا ہے۔ غیر سرکاری اندازوں میں کہا جا رہا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہو سکتے ہیں۔
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے مطابق ان متضاد پوزیشنز کے باوجود دونوں ملکوں کا مذاکرات کی میز پر آنا ایک ‘خوش آئند’ بات ہے کیونکہ جنگ کی صورت میں عالمی معیشت اور خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔
1970 کی تاریخ دہرانے کا موقع
اعزاز احمد چوہدری نے پاکستان کی میزبانی کو ایک بڑا سفارتی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’یہ سہولت کاری اتنی ہی بڑی ہے جتنی 1970 میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان کی تھی۔ پاکستان ایک معتبر ذریعے کے طور پر ابھرا ہے جو عالمی امن کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایک مخلص سہولت کار کے طور پر پاکستان فریقین کو ‘کامن گراؤنڈ’ (مشترکہ زمین) کی طرف لانے کی کوشش کرے گا، جہاں پابندیوں کے خاتمے اور سیز فائر کی توسیع کے لیے ایک ٹائم ٹیبل پر اتفاق ہو سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیل بحثیت ‘سپوئلر’؟
انٹرویو کے دوران اسرائیل کے ممکنہ منفی کردار پر بھی بات ہوئی۔ اعزاز صاحب نے کہا کہ اسرائیل جنگ کا حامی رہا ہے تاکہ ایران اور خلیجی ریاستیں ایک دوسرے کو تباہ کر دیں، لیکن وہ امریکہ کی مرضی کے خلاف جا کر کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ تاہم، لبنان اور غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیاں مذاکرات کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔
مذاکرات کی لاجسٹکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے قیاس کیا کہ یہ ‘عمان ماڈل’ کی طرز کی ہوسکتی ہیں: ’مجھے سرکاری معلومات نہیں لیکن میرے خیال میں امریکی اور ایرانی وفود الگ الگ کمروں میں بیٹھیں گے۔ پاکستانی حکام ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک پیغامات اور تجاویز لے کر جائیں گے۔
’اصول یہی ہوگا کہ جب تک سب کچھ طے نہیں ہو جاتا، تب تک کچھ بھی طے نہیں ہوا مانا جائے گا۔‘
اعزاز احمد چوہدری نے، جو خود طویل عرصہ دفتر خارجہ سے وابستہ رہے، یقین دلایا کہ پاکستان کا پروٹوکول اور ڈاکومنٹیشن کا نظام بہترین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی تاریخی معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو دفتر خارجہ اس کے لیے ‘ہسٹارک پین’ (تاریخی قلم) بھی فراہم کر سکتا ہے جو مستقبل میں میوزیم کی زینت بنے گا۔
مستقبل کی توقعات
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات شاید ایک دن چلیں جس میں ابتدائی سمت کا تعین ہو جائے گا۔ ’یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک دم سارے مسائل حل ہو جائیں، لیکن اگر کوئی ‘رف ایگریمنٹ’ (ابتدائی اتفاق) ہو جاتا ہے تو اس سے امن کی امید پیدا ہوگی۔‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے حتمی اعلان تک ‘رازداری’ برقرار رکھنا کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
