آن لائن کلاسز کا مطلب ہے چھٹی

وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ سوموار امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی ایندھن بحران کے پیشِ نظر ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔

انہوں نے اس اعلان میں تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ 16 مارچ سے 31 مارچ تک آن لائن کلاسز کا انعقاد کریں جبکہ تمام اسکولوں کو 16 مارچ سے 31 مارچ تک دو ہفتوں کے لیے بند رکھنے کا کہا۔

میری پی ایچ ڈی شروع ہوئی تو ایک سمیسٹر کے بعد ہی کورونا کی عالمی وبا آ گئی تھی۔ پوری دنیا آن لائن منتقل ہو گئی تھی۔ میں چین میں مقیم تھی جہاں تعلیم اور کام کو آن لائن منتقل کرنا نسبتاً آسان تھا۔ دوسری طرف پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک میں اس حوالے سے خاصی مشکلات سامنے آئی تھیں۔

میرا ایک کلاس فیلو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تھا۔ وہ کورونا کے پھیلاؤ سے قبل ہی موسمِ سرما کی تعطیلات میں واپس چلا گیا تھا۔ پھر چین کی پابندیوں کی وجہ سے اگلے تین سال تک واپس نہیں آ سکا۔ اس وقت انڈیا نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی تھی اور وہاں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں تھیں۔ ہمارا دوسرا سمسٹر آن لائن ہوا تھا۔ اس کے لیے آن لائن کلاسز لینا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ وہ کلاس یا تو جوائن نہیں کر پاتا تھا، جوائن کر لیتا تھا تو اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔

کچھ دن بعد اس نے کلاسز میں شامل ہونا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ایک دفعہ اس نے کلاس جوائن کی تو وہ گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کچھ دیر میں کیمرا بند کر دیا۔ پھر مجھے پیغام بھیجا کہ میں ڈیٹ پر ہوں، کوئی اہم بات ہو تو مجھے بتا دینا۔

اس وقت آن لائن تعلیم ایک ناگزیر ضرورت بن گئی تھی۔ اصل دنیا میں میل جول اور اجتماعات خطرناک ہو گئے تھے۔ ان حالات میں آن لائن تعلیم اور کام بہت بڑی سہولت بن گئے تھے۔ تاہم، اسی دوران ہمیں آن لائن منتقلی کے نقصانات بھی واضح ہوئے تھے۔

آن لائن تعلیم نے ہماری دنیا میں موجود عدم مساوات کو نمایاں کر دیا تھا اور یہ عدم مساوات کئی تہوں اور کئی صورتوں میں موجود تھی۔ کم آمدنی والے ممالک کے بہت سے گھرانے کمپیوٹر یا تیز رفتار انٹرنیٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ کئی گھروں میں طالب علموں کے لیے پڑھنے کا مناسب ماحول ہی موجود نہیں تھا۔ اساتذہ آن لائن پڑھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اداروں کے پاس آن لائن پلیٹ فارمز کی سبسکرپشن کے پیسے نہیں تھے۔ غرض سینکڑوں مسائل تھے۔

پاکستان کے کئی علاقوں میں تو انٹرنیٹ موجود ہی نہیں تھا اور بعض جگہوں پر انتہائی سست تھا۔ ایسے علاقوں میں کورونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم ایک بڑا مسئلہ بن گئی تھی۔ طلبہ کو اپنے گھروں سے دور کسی کھلے میدان میں، ٹاور کے قریب جا کر کلاسز لینا پڑتی تھیں۔ کئی علاقوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ہی جگہ اکٹھے ہو کر کلاسز لینا بھی ایک چیلنج بن گیا تھا۔ بہت سے گھروں میں صرف ایک کمپیوٹر اور کئی طالب علم تھے۔ اب کون کلاس لے اور کون انتظار کرے۔

دوسری طرف میری چینی سپروائزر نے اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے والا اپارٹمنٹ اپنے آٹھ سالہ بیٹے کی آن لائن کلاسز کے لیے کرائے پر لے لیا تھا اور وہ اس اپارٹمنٹ سے اطمینان کے ساتھ آن لائن کلاسز لیتا تھا۔

میرا کشمیری کلاس فیلو چینی پروفیسروں کو بار بار بتاتا تھا کہ بھارتی ہابندیوں کی وجہ سے اس کے علاقے میں انٹرنیٹ موجود نہیں ہے اور وہ حیران ہوتے تھے کہ دنیا میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں انٹرنیٹ موجود نہیں ہے؟ بالاخر اس نے انہیں کئی نشریاتی اداروں کی خبروں کے حوالے بھیجے تو اسے کچھ سہولت ملی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں بھی جہاں ایک طبقہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، وہیں ایک دوسرا طبقہ ایسا بھی ہے جو آن لائن نظام کو اپنے لیے ایک نعمت سمجھتا ہے۔ ان کے لیے گھروں سے نکل کر کلاسز تک آنا ایک عذاب ہوتا ہے۔ تین گھنٹے کلاس میں بیٹھنا، ٹیچر کو سننا، سوال کرنا اور گفتگو میں حصہ لینا ان کے لیے کسی مشقت سے کم نہیں ہوتا۔ کلاس میں بیٹھے ہوئے وہ باہر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے انہیں وہاں کسی قید میں بٹھایا ہو۔پوری کلاس میں وہ صرف دو چیزیں کہتے ہیں، بریک دے دیں یا بس کر دیں۔

ایسے لوگوں کے لیے آن لائن کلاسز کسی نعمت سے کم نہیں ہوتیں۔ یہ بس لیپ ٹاپ آن کرتے ہیں یا موبائل پر کلاس جوائن کرتے ہیں، کیمرہ اور مائک بند کر کے اپنے کسی اور کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ٹیچر کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صرف سکرین کو پڑھا رہے ہوں۔ اور اگر کبھی ان سے کچھ پوچھ لیا جائے یا کلاس میں دیر سے آنے پر بات کی جائے تو فوراً ’میڈم انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے‘ کہہ دیتے ہیں۔

اب ہم دوبارہ آن لائن جانے والے ہیں۔ اس سے ایندھن تو بچ جائے گا مگر علم کا مؤثر تبادلہ ممکن نہیں ہو پائے گا۔ ہمارے ہاں آن لائن کلاسز کا مطلب چھٹی ہے۔ لیکچر دینے والا لیکچر دیتا رہے اور لیکچر لینے والا کان لپیٹے سامنے بیٹھا رہے۔ ہم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دستیابی کے مسائل حل کر بھی لیں تب بھی رویوں کی تبدیلی کے بغیر ہم ٹیکنالوجی سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے۔

ہمیں ہنگامی صورتحالوں میں لوگوں کو گھر بٹھانے کی بجائے اپنے انفراسٹکچر کو بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ہر شہر، ہر قصبے اور گائوں میں پھیلانا چاہیے تاکہ لوگ کم وسائل میں نقل و حرکت کر سکیں اور ہمارے نظام چلتے رہیں۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *