امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کیا تھا جس نے دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان دنیا کے مختلف ملکوں سے آتا اور کو جاتا ہے۔
اس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے بیشتر ممالک پر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
امریکہ کے توانائی کے ادارے اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اہم سمندری گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کسی بھی وجہ سے یہ گزرگاہ بند رہتی ہے تو نہ صرف عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کو فوری بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام معاملے پر پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر احمد چنائے نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔‘
احمد چنائے کہتے ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ اگر ایران اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی فوری طور پر متاثر ہو گی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔‘
احمد چنائے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر ان ممالک پر پڑے گا جو خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کرتے ہیں۔
’پاکستان بھی انہی ملکوں میں شامل ہے کیونکہ اس کی تقریباً 90 فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے آتی ہیں۔ پاکستان کے بڑے سپلائرز میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں اور ان سب کی برآمدات بڑی حد تک آ بنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہیں۔‘
احمد چنائے کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی تقریباً 80 سے 90 فیصد آئل ایکسپورٹس بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں، جبکہ محدود مقدار متبادل پائپ لائنز یا دیگر روٹس کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ اس لیے بندش کی صورت میں سعودی معیشت بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔‘
اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ’اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 110 یا 120 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان میں مہنگائی کا شدید طوفان آ سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہو گا، جس کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہوں گی اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
’مزید یہ کہ متبادل راستوں سے تیل کی ترسیل ممکن تو ہے لیکن بھاری فریٹ اور کنٹینر چارجر اسے معاشی طور پر کم قابلِ عمل بنا سکتے ہیں۔‘
احمد چنائے نے افغانستان کے تناظر میں بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی مسائل اور دہشت گردی کے واقعات پہلے ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ اگر توانائی بحران بھی اس میں شامل ہو گیا تو اس کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ دور میں ہر شعبے کا دارومدار ایندھن اور توانائی پر ہے۔‘
دوسری جانب انہوں نے ایل این جی کے حوالے سے کہا کہ ’اگرچہ قطر کے ساتھ پاکستان کے معاہدے موجود ہیں، تاہم اس وقت ملک میں گیس کی پیداوار اور طلب کے درمیان کسی حد تک توازن پایا جاتا ہے اور ایل این جی کی آمد بعض اوقات ضرورت سے زیادہ بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر عارضی طور پر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو یہ فوری طور پر بڑے بحران کا سبب نہیں بنے گی۔‘
ان کے مطابق موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی کیونکہ اس سے عالمی معیشت کو بھاری نقصان ہو گا۔ فضائی حدود کی بندش سے بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کے مسائل بڑھیں گے اور تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو سکتی ہیں۔
’لہٰذا تمام متعلقہ ممالک کو سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کر کے عالمی اورعلاقائی معیشت کو استحکام دینا ہو گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سٹاک مارکیٹ ماہر اور ٹریڈر جاوید خنانی نے آبنائے ہرمز کے راستوں کی ممکنہ بندش کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑانقصان کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس صورت حال کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، تقسیم کار اداروں اور مجموعی صنعتی ڈھانچے پر بھی پڑیں گے، کیونکہ توانائی ہر شعبے کی بنیادی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ کووڈ کے دوران بھی ترسیلی نظام میں رکاوٹ آئی تھی، تاہم موجودہ صورت حال زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے، خصوصاً اگر فضائی حدود اور بحری راستے طویل عرصے تک بند رہتے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو تیل اور گیس کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس پیش رفت کے گہرے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
آبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے۔ البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جائے گی۔
ایران ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اس آبنائے کو بند کر دے گا۔
