پاکستان اور 21 دیگر ممالک، جن میں فرانس، برازیل، سپین اور ڈنمارک شامل ہیں، نے منگل کو اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات ’ناقابلِ قبول عملی الحاق‘ کو آگے بڑھانے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے منگل کی رات (24 فروری کو) مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔
بیان میں، جس پر عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرلز نے بھی دستخط کیے، اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینی زمین کی نئی درجہ بندی اور آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیز کرنے سے متعلق حالیہ فیصلے فوری طور پر واپس لے۔
یہ بیان مسلم اکثریتی ممالک سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی تنقید کے دائرے کو وسیع کرتا ہے، کیونکہ ناروے، سویڈن، پرتگال، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ اور لکسمبرگ جیسے ملک بھی عرب اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریاں اور ان کو آگے بڑھانے کے لیے کیے گئے فیصلے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادیں اور 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے بھی شامل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ’ایک واضح راستے کا حصہ ہیں جس کا مقصد زمینی حقائق کو تبدیل کرنا اور ناقابلِ قبول عملی الحاق کو آگے بڑھانا ہے‘ اور خبردار کیا کہ یہ علاقائی امن و استحکام کے جاری اقدامات، بشمول غزہ کے لیے مجوزہ 20 نکاتی منصوبے، کو نقصان پہنچاتے ہیں اور وسیع تر علاقائی انضمام کے امکانات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ ’وہ فوری طور پر ان اقدامات کو واپس لے، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے، اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی اور انتظامی حیثیت میں مستقل تبدیلی کا سبب بنیں۔‘
یہ تازہ بیان مغربی کنارے میں اسرائیل کی زمین اور آبادکاری کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی جس کے تحت 1967 کے بعد پہلی بار مغربی کنارے کے بعض حصوں میں زمین کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کی منظوری دی گئی، جسے وسیع پیمانے پر آبادکاری میں توسیع اور ممکنہ الحاق کی راہ ہموار کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی کابینہ کے ارکان نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں، خصوصاً ایریا سی، جہاں اوسلو معاہدوں کے تحت مکمل اسرائیلی سکیورٹی اور انتظامی کنٹرول برقرار ہے اور جو تقریباً 60 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، میں انتظامی کنٹرول مزید سخت کرنے کی حمایت کی ہے۔
مغربی کنارے میں، مشرقی بیت المقدس کو چھوڑ کر جسے اسرائیل نے ضم کر رکھا ہے، پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار اور تقریباً تیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت آبادکاریاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں، تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تازہ بیان میں وزرائے خارجہ نے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی بیت المقدس، کی آبادیاتی ساخت، کردار اور حیثیت کو تبدیل کرنے والے تمام اقدامات کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ ’کسی بھی قسم کے الحاق‘ کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی کے پیش نظر ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو روکے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔‘
وزرائے خارجہ نے عہد کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی آبادکاری کے پھیلاؤ اور جبری بے دخلی یا الحاق کی پالیسیوں اور خطرات کے خلاف ’عملی اقدامات‘ کریں گے۔
رمضان کے دوران مقبوضہ بیت المقدس کی حساس صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے شہر کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اردن کی ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا۔
مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دستخط کنندگان نے کہا کہ وہ عرب امن اقدام اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کے ذریعے ’منصفانہ، جامع اور دیرپا امن‘ کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’جیسا کہ نیویارک اعلامیے میں ظاہر کیا گیا ہے، اسرائیل۔فلسطین تنازع کا خاتمہ علاقائی امن، استحکام اور انضمام کے لیے ناگزیر ہے‘، اور ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے کے عوام اور ریاستوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو ممکن بنا سکتا ہے۔
