کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے کپتان اجنکیا رہانے نے کرکٹ آسٹریلیا پر کل رات تنقید کی جب 2.7 ملین ڈالر مالیت کے آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین بولنگ نہ کرسکے اور ان کی ٹیم نے آئی پی ایل کے پہلے میچ میں شکست سے آغاز کیا۔
گرین کو دسمبر کی نیلامی میں تین بار کی چیمپئن ٹیم کولکتہ نے 252 ملین انڈین روپے میں خریدا، جس سے وہ انڈین پریمیئر لیگ کی تاریخ کے مہنگے ترین غیر ملکی کھلاڑی بن گئے۔
اتوار کو ممبئی انڈینز کے خلاف وانکھیڑے سٹیڈیم میں کولکتہ نے 220 رنز بنائے۔ گرین نے تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا، مگر وہ 10 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
اس کے بعد کولکتہ کے بولرز— آسٹریلوی کھلاڑی گرین کے بغیر— بُری طرح پٹ گئے، اور میزبان ٹیم نے پانچ گیندیں باقی رہتے ہدف حاصل کرلیا۔
میچ کے بعد جب رہانے سے پوچھا گیا کہ گرین کو بولنگ کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا گیا تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا: ’یہ سوال آپ کو کرکٹ آسٹریلیا سے پوچھنا چاہیے۔‘
پیر کو کرکٹ آسٹریلیا نے کہا کہ گرین کمر کے نچلے حصے کی انجری کا شکار ہیں، جس کے باعث انہیں ’کچھ عرصے تک بولنگ سے گریز کرنا ہوگا۔‘
سابق بھارتی سپنر روی چندرن اشون نے مشورہ دیا کہ اگر کیمرون گرین ایک آل راؤنڈر کے طور پر اپنی مکمل ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے تو ان کی ادائیگی میں کمی کی جانی چاہیے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان نے بتایا: ’کیمرون اس وقت انڈیا میں اپنی بولنگ فٹنس بحال کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ تقریباً 10 سے 12 دن میں واپس لوٹ آئیں گے۔‘
“’کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو اس صورت حال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ مکمل طور پر باخبر ہیں۔‘
26 سالہ گرین 2024 میں کمر کی سرجری کے بعد سے احتیاط کے ساتھ مینج کھیل رہے ہیں۔
انہوں نے فروری میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں صرف سات گیندیں کروائیں، جبکہ شیفیلڈ شیلڈ کے نویں راؤنڈ میں صرف بطور بیٹر حصہ لیا۔
بعد ازاں پریس کانفرنس میں رہانے نے کہا: ’یہ ایک چیلنج ہے کیونکہ ہمارے بولرز انجری کا شکار ہیں، لیکن یہ دوسرے کھلاڑیوں کے لیے موقع بھی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنا نام بنائیں۔‘
