ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت تہران کو آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
ایک سینیئر ایرانی ذریعے اور خطے کے دو حکام نے بدھ کو روئٹرز کو بتایا کہ یہ ایران کو دی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی رعایتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم دکھائی دیتی ہے، تاہم ذرائع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے اختلاف کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔
خطے کے ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا ’آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں کنٹرول کے حوالے سے رعایت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔‘
ایک دوسرے علاقائی ذریعے کے مطابق ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ’کنٹرول‘ سے مراد کیا ہو گا۔
خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی خطے کے ممالک خود کریں جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ ہونی چاہیے۔
سینیئر ایرانی ذریعے کے مطابق مذاکرات کی میز پر موجود معاہدے کے مسودے میں یہ تصور شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر ایران کا کنٹرول ہوگا جبکہ ایک اہم اختلافی نکتہ یہ ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہو گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات کو ’پیشہ ورانہ‘ اور ’مثبت انداز میں آگے بڑھنے والا‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’دونوں فریق زیر غور بحری راستے کے جغرافیائی خدوخال پر باہمی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی تیسرا فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے تو دونوں ممالک کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیہ، جس میں بنیادی نکات اور باہمی اتفاق رائے شامل ہوگا، آخری مرحلے میں ہے اور اس کا مسودہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔
’ایران کو آبنائے ہرمز پر اختیار دینا قابل قبول نہیں‘
امریکی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے انتظام کو کبھی قبول نہیں کریں گے جس کے تحت ایران کو دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے سب سے اہم تجارتی بحری راستے تک رسائی پر کنٹرول حاصل ہو۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے دار حالیہ دنوں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ فروری میں شروع کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ قریب ہے حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی ووٹروں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے۔
واشنگٹن کا مجوزہ معاہدے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکہ کی کئی ماہ کی فوجی کارروائیوں، جن میں جولائی میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری بھی شامل ہے، کے باوجود ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کمزور نہیں ہو سکی۔
امریکی فوجی کمانڈروں نے جولائی میں صدر ٹرمپ کو آگاہ کر دیا تھا کہ بعض اہم ہتھیاروں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
روئٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اپنے تقریباً تمام طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ لگانے والے میزائل استعمال کر چکی ہے۔
’آبنائے ہرمز بہت جلد دوبارہ کھل جائے گی‘
گذشتہ ہفتے کے آخر میں بھی ٹرمپ نے ایران پر ’وسیع پیمانے کے حملوں‘ کا منصوبہ منسوخ کرنے کی وجہ یہی مذاکرات بتائی تھی اور وہ جنگ کے دوران متعدد مرتبہ یہی مؤقف دہرا چکے ہیں۔
تاہم سینیئر ایرانی ذریعے نے کہا ’مذاکرات جاری ہیں لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔‘
ایک اور ایرانی ذریعے نے کہا ’اصل معاملہ تفصیلات میں پوشیدہ ہے۔ ٹرمپ کی ایک ہی ٹویٹ پورے عمل کو ناکام بنا سکتی ہے۔‘
امریکہ میں جنگ غیر مقبول
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس ہفتے کے آخر میں وزیر خارجہ یا پارلیمنٹ کے سپیکر، جو ایران کی جانب سے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں، کے قطر یا پاکستان جانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا تہران قطر اور پاکستان سے مسلسل رابطے میں ہے کیونکہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی معمول کی بریفنگ کے دوران نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ اقوام متحدہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے ممکنہ معاہدے کے بارے میں براہِ راست کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
تاہم انہوں نے کہا ’ہم یقیناً تمام فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کو آگے بڑھائیں۔‘
اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز تک رسائی پر کسی بھی درجے کا اختیار ملتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔
جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر کھلی ہوئی تھی۔
تاہم ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ ایران کی ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ پر ختم ہوگا، اب ایسی جنگ سے نکلنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جس کی امریکی ووٹر دو تہائی اکثریت مخالفت کر رہی ہے۔
سینیئر ایرانی عہدے دار کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کے کارگو کی مالیت کا پانچ سے سات فیصد بطور فیس وصول کیا جائے۔
دوسری جانب عمان تقریباً تین فیصد فیس کی تجویز پر بات کر رہا ہے جبکہ امریکہ کسی بھی قسم کی فیس کے حق میں نہیں۔
ذرائع کے مطابق فیس کو بظاہر رضاکارانہ قرار دینا تعطل ختم کرنے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے۔
تاہم ایران کی ممکنہ کارروائی کے خدشے کے باعث شپنگ کمپنیاں غالباً ادائیگی کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گی۔
